سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 713
سیرت المہدی 713 حصہ سوم حضرت صاحب اس سال ہمارے ہاں ایک دو روز کے لئے تشریف لائے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے اس کا علم نہیں تھا۔(۹) شروع ۱۸۹۵ء میں جب میں قادیان مڈل کا امتحان دے کر آیا تھا۔تو حضرت صاحب نے قریباً تین ماہ مجھے ایک ہزار عربی فقرہ بنا کر یاد کرایا تھا۔پیر سراج الحق صاحب میرے ہم سبق تھے۔مگر حضرت صاحب قریباً میں فقرے روزانہ مجھے چاشت کے وقت لکھوا دیتے تھے اور دوسرے دن سن لیتے تھے۔اور پھر لکھوا دیتے تھے۔آپ نے ان اسباق کا ذکر ۱۸۹۹ء کے واقعات میں کیا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے اس کا علم غالبا مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے ذریعہ ہوا تھا۔لیکن چونکہ میر صاحب ۱۸۹۵ء کے متعلق یقین ظاہر کرتے ہیں۔اس لئے غالباً ایسا ہی ہوگا۔اور من الرحمن کی تصنیف کا زمانہ بھی جو ۱۸۹۵ ء ہے اسی کی تائید کرتا ہے۔(۱۰) ۱۸۹۵ء میں آپ نے تصنیف و اشاعت ست بچن اور تصنیف و اشاعت آریہ دھرم کو الگ الگ کر کے لکھا ہے۔حالانکہ پہلے ایڈیشن میں یہ دونوں کتب اکٹھی ایک جلد میں شائع کی گئی تھیں۔اور ایک ہی دن ان کی اشاعت ہوئی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے اس کے متعلق علم نہیں تھا۔(۱۱) آپ نے ۱۸۹۶ء کے واقعات میں لکھا ہے۔تصنیف و اشاعت اسلامی اصول کی فلاسفی۔نشان جلسہ اعظم مذاہب لاہور۔میرے نزدیک یوں چاہیئے۔” تصنیف اسلامی اصول کی فلاسفی نشان لاہور“ جلسہ اعظم مذاہب لاہور۔بس اس سال یہی دو باتیں ہوئیں۔مضمون قلمی تحریر تھا۔جو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے آخر دسمبر میں سنایا۔جلسہ میں سنانے کے لئے یہ مضمون پیر سراج الحق صاحب نے خوشخط قلمی لکھا تھا۔پھر ۱۸۹۷ء میں رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب میں وہ پہلی دفعہ شائع ہوا۔پس اشاعت ۹۷ء میں ہوئی۔ہاں اگر جلسہ میں پڑھے جانے سے مراد اشاعت ہے۔تو ٹھیک ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ اشاعت سے میری مراد اس کا پبلک میں پڑھا جانا تھی۔گو یہ درست ہے کہ اس کی طباعت ۱۸۹۷ء میں ہوئی تھی۔