سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 712 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 712

سیرت المہدی 712 حصہ سوم دیکھو تذکرہ ایڈیشن اوّل صفحہ ۱۳۱) مگر مجھے ابھی تک اسی طرف میلان ہے کہ یہ ۱۸۸۴ء کا واقعہ ہے۔(۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا دہلی کا نکاح ۱۸۸۵ء میں بیان کیا ہے ( نزول مسیح صفحه ۲۰۸) مگر سیرۃ المہدی میں ۱۸۸۴ء درج ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے خیال میں ۱۸۸۴ء ہی درست ہے۔کیونکہ حضرت والدہ صاحبہ نے مجھے اس کی معین تاریخ بتائی تھی۔مگر حضرت صاحب نے محض تخمینا لکھا ہے۔جیسا کہ نزول اسیح کے اکثر تاریخی انداز سے تخمینی ہیں۔(۵) حضرت صاحب نے مسیح ہونے کا اعلان بجائے ۱۸۹۱ء کے جیسا کہ سیرۃ المہدی میں لکھا گیا ہے۱۸۹۰ء میں کیا تھا۔اس کے متعلق میرا ثبوت یہ ہے کہ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۷۹ مکتوب نمبر ۵۷ جو حضرت صاحب نے ۱۵ جولائی ۱۸۹۰ء کو تحریر فرمایا ہے۔اس میں لکھا ہے کہ کئی مولوی مجھے ضال اور جہنمی کہتے ہیں اور مولوی محمد حسین بٹالوی کہتے ہیں۔کہ میں عقلی طور پر مسیح کا آسمان سے اترنا ثابت کر دونگا۔پس صرف تصنیف فتح اسلام و توضیح مرام ہی ۹۰ء میں تصنیف نہیں ہوئی۔بلکہ اعلان دعویٰ مسیحیت بھی۱۸۹۰ء میں ہو گیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میری مراد اس اعلان سے اشاعت تھی۔اور چونکہ اس کی تحریری اشاعت بذریعہ رسالہ فتح اسلام ۱۸۹۱ء میں ہوئی تھی۔اس لئے میں نے اسے ۱۸۹۱ء میں رکھا ہے۔گو یہ درست ہے کہ ویسے زبانی طور پر اور خطوط کے ذریعہ اعلان۱۸۹۰ء میں ہو گیا تھا۔چاہئے تھا۔(۶) ۱۸۹۱ء کے واقعات میں آپ نے وفات عصمت کے بعد سفر امرتسر نہیں لکھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے اس کا علم نہیں تھا۔(۷) ۱۸۹۱ء میں سفر پٹیالہ کو آپ نے وفات عصمت سے پہلے تحریر فرمایا ہے۔حالانکہ الٹ لکھنا خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے اس کا صحیح علم نہیں ہے۔ممکن ہے ایسا ہی ہو۔(۸) آپ نے ۱۸۹۴ء کے واقعات میں حضرت صاحب کا سفر چھاؤنی فیروز پور نہیں لکھا۔