سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 711
سیرت المہدی 711 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ خود حضرت صاحب کی تحریر کا اختلاف ظاہر کر رہا ہے کہ آپ نے یہ تاریخیں زبانی یادداشت پر قیاسا لکھی ہیں۔مگر میں نے جو تاریخ لکھی ہے وہ سرکاری ریکارڈ سے لکھی ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ۱۸۷۶ء ہی درست ہے۔اور خود حضرت صاحب کی کتاب کشف الغطاء میں بھی یہ سرکاری حوالہ درج ہے۔(ب) پھر میر صاحب فرماتے ہیں کہ اسی ضمن میں یہ بھی عرض ہے کہ حضرت صاحب نے نزول المسیح کے صفحہ ۲۳۲ میں جو تاریخ اس خط کی لکھی ہے جو پٹیالہ سے لکھ کر بھیجا گیا تھا وہ ۱۸۸۷ء ہے مگر یہ درست نہیں بلکہ یہ ۹۲ ء کا واقعہ ہے جبکہ ہم پٹیالہ میں تھے اور میاں محمد الحق صاحب دو سال کے تھے۔۸۷ء میں تو وہ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔اور ہم 91ء میں پٹیالہ تبدیل ہو کر گئے تھے۔اسی طرح حقیقۃ الوحی صفحہ۲۵۲ میں حضور نے سفر جہلم ۱۹۰۴ء میں لکھا ہے۔مگر یہ سفر ۱۹۰۳ء میں ہوا تھا۔سوحضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس بارے میں ذہول ہوا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ باتیں میر صاحب نے یونہی ضمناً بیان کر دی ہیں ورنہ سیرۃ المہدی کی روایت نمبر ۴۶۷ سے انہیں تعلق نہیں ہے۔(۲) حضرت صاحب نے اپنے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی وفات ۱۸۸۱ء میں لکھی ہے۔( نزول مسیح صفحہ ۲۲۵) اور آپ نے سیرۃ المہدی میں ۸۳ لکھی ہے۔اور اسی طرح ایک اور جگہ حضرت صاحب نے ان کی وفات ۸۷ء میں لکھی ہے۔(نزول المسیح صفحہ ۲۱۷) خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو یاد نہیں رہا۔جیسا کہ اختلاف سنین سے ظاہر ہے۔مگر میرا اندراج سرکاری ریکارڈ پر بنی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی درست ہے۔(۳) آپ نے سرخی کے چھینٹوں والا واقعہ سیرۃ المہدی حصہ دوم میں ۱۸۸۴ء میں لکھا ہے مگر حضرت صاحب اس کو تقریباً ۱۸۸۷ء میں لکھتے ہیں۔( نزول اسیح صفحہ ۲۲۶) خاکسار عرض کرتا ہے کہ ۱۸۸۷ء کا اندازہ تو بہر حال درست معلوم نہیں ہوتا اور حضرت صاحب نے بھی اسے یونہی تخمینی رنگ میں لکھا ہے۔البتہ ممکن ہے کہ تذکرہ کا اندراج درست ہو جو ۱۸۸۵ء ہے