سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 710
سیرت المہدی 710 حصہ سوم ہے۔کہ ہنوز بشیر اول کے متعلق مفصل علم نہ ہوا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی صاحب کا یہ اعتراض درست نہیں ہے۔جس سراج منیر کی تصنیف کا ذکر ابتدائی کتابوں اور اشتہاروں میں آتا ہے وہ اور تھی جو طبع نہیں ہوئی۔اور جو سراج منیر ۱۸۹۷ء میں آکر شائع ہوئی وہ اور ہے چنانچہ خود مؤخر الذکر سراج منیر میں متعدد جگہ اس کا ثبوت ملتا ہے کہ یہ کتاب ۱۸۹۷ء میں لکھی گئی تھی۔مثلاً ملاحظہ ہوں صفحہ ۲۱،۱۷، ۴۸ ۷۴۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب نے اوائل میں ایک کتاب سراج منیر لکھنے کا ارادہ کیا تھا اور غالباً کچھ حصہ لکھا بھی ہوگا۔مگر وہ طبع نہیں ہوئی۔اور پھر اس کے بعد آپ نے ۱۸۹۷ء میں ایک اور رسالہ سراج منیر کے نام سے لکھ کر شائع فرما دیا۔واللہ اعلم۔(د) آنجناب نے تصنیف و اشاعت حقيقة الوحی‘۱۹۰۷ء میں قرار دی ہے۔حالانکہ حقیقة الوحی ہی کے صفحات صفحہ ۳۹۲،۶۷ و تمه صفحه ۳۲،۲۶،۲۳،۶،۵ حاشیه ۳۳ شروع وصفحه ۳۹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابتداء تصنیف ۱۹۰۶ء میں ہوئی۔بلکہ یکم اکتوبر ۱۹۰۶ء کو حقیقۃ الوحی کاتب نے بھی لکھ لی تھی اور پھر تتمہ حقیقۃ الوحی البتہ جنوری، فروری، مارچ واپریل ۱۹۰۷ء میں لکھا گیا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ درست ہے کہ حقیقۃ الوحی کا معتد بہ حصہ واقعی ۱۹۰۶ء میں لکھا گیا تھا مگر تصنیف کی تکمیل ۱۹۰۷ء میں ہوئی تھی۔اور میری یہی مراد تھی مگر غلطی سے صرف ۱۹۰۷ء کی طرف ساری کتاب کو منسوب کر دیا گیا۔769 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر یر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ سیرۃ المہدی کی روایت نمبر ۴۷۰ میں سنین کے لحاظ سے جو واقعات درج ہیں۔ان میں سے بعض میں مجھے اختلاف ہے۔جو درج ذیل ہے:۔ا۔(الف) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے والد مرزا غلام مرتضے صاحب مرحوم کی وفات کی تاریخ ۲۰۔اگست ۱۸۷۵ء تحریر فرمائی ہے (دیکھو نزول اسیح صفحہ ۲۰۷) مگر سیرۃ المہدی میں ۱۸۷۶ء درج ہے۔پھر ایک اور جگہ حضرت صاحب نے اپنے والد کی وفات جون ۱۸۷۴ء لکھی ہے ( نزول مسیح صفحه (۱۱۶)