سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 700
سیرت المہدی 700 حصہ سوم مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے مخالفین کی تحریرات پر یکجائی نظر ڈال کر دیکھا جائے کہ زیادہ میلان کس سن کی طرف ہے۔پیشتر اس کے کہ مختلف تحریرات پر اس طرح نظر ڈالی جائے۔دو تین امور قابل غور ہیں اور وہ یہ کہ میرے نزدیک حضرت مسیح موعود کی مندرجہ ذیل تحریر سے مجھے دکھلاؤ کہ آتھم کہاں ہے اس کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی یعنی قریب ۶۴ سال کے۔“ ( اعجاز احمدی صفحه ۳) یہ نتیجہ نکالنا کہ چونکہ آتھم ۲۷ / جولائی ۱۸۹۶ء کو مرا تھا۔( انجام آتھم صفحہ ) اس لئے آپ کی عمر ۷۶ سال ہوئی۔درست نہیں معلوم ہوتا۔کیونکہ حضرت مسیح ود علیہ السلام نے جس رنگ میں اپنی عمر آتھم کے برابر ظاہر کی ہے وہ ایسا نہیں کہ صرف اسی حوالہ کو لے کر نتیجہ نکالا جائے۔آتھم کے مقابلہ میں جس امر پر آپ زور دینا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ”ہم دونوں پر قانونِ قدرت یکساں مؤثر ہے۔(اشتہار انعامی ۲ ہزار روپیہ مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۸۹۴ء) پھر فرماتے ہیں۔”ہم اور آتھم صاحب ایک ہی قانونِ قدرت کے نیچے ہیں“۔(اشتہار انعامی ۴ ہزار روپیہ ) عمر کے متعلق جو وضاحت فرمائی ہے۔وہ اس طرح ہے۔اگر آتھم صاحب ۶۴ برس کے ہیں تو (اشتہار انعامی ۲ ہزار روپیه مورخه ۲۰ ستمبر ۱۸۹۴ء) یہ عاجز قریباً ۶۰ برس کا ہے۔پھر فرماتے ہیں۔اور بار بار کہتے ہیں ( یعنی آتھم صاحب) کہ میری عمر قریب ۶۴ یا ۶۸ برس کی ہے۔۔۔دیکھو میری عمر بھی تو قریب ۶۰ برس کے ہے“۔(اشتہار انعامی ۴ ہزار روپیہ ) پھر فرماتے ہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ قریب ۷۰ برس کی میری عمر ہے۔اور پہلے آپ اس سے اسی سال کے کسی پر چہ نور افشاں میں چھپا تھا کہ آپ کی عمر ۶۴ برس کے قریب ہے۔پس میں متعجب ہوں کہ اس ذکر سے کیا فائدہ۔کیا آپ عمر کے لحاظ سے ڈرتے ہیں۔کہ شاید میں فوت نہ ہو جاؤں۔مگر آپ نہیں سوچتے کہ بجز ارادہ قادر مطلق کوئی فوت نہیں ہو سکتا۔اگر آپ ۶۴ برس کے ہیں۔تو میری عمر بھی قریبا ۶۰ برس کے ہو چکی ہے“۔(اشتہار انعامی ۳ ہزار روپیه مورخه ۱۵ /اکتوبر ۱۸۹۶ء) پس ان واضح تحریروں کے ہوتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر آتھم کے بالکل برابر نہیں قرار دی جاسکتی۔بلکہ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں۔”بہتیرے سوسو برس زندہ رہتے ہیں مگر عبداللہ آتھم کی