سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 699
سیرت المہدی 699 حصہ سوم مولوی صاحب نے عشرہ کاملہ کا جواب دیا ہے۔میرے نزدیک آپ کی عمر کا سوال ایسا ہے کہ اُسے مستقل حیثیت سے فیصلہ کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔عمر کے متعلق الہامات:۔الہام ثَمَانِينَ حَوْلًا اَوْ قَرِيبًا مِّنْ ذَالِكَ أَوْنَزِيدُ عَلَيْهِ سَنِيِّنًا وَتَرى نَسُلاً بَعِيدًا ( اربعین نمبر س طبع دوم صفحہ ۲۶ - ضمیمہ تحفہ گولڑو یہ طبع دوم صفحہ ۲۹) اور الہام وترى نَسُلًا بَعِيْدًا وَلَنُحْيِيَنَّكَ حَيوةً طَيِّبَةً ثَمَانِينَ حَوْلًا اَوْقَرِيبًا مِنْ ذَالِكَ (ازالہ اوہام حصہ دوم طبع اول صفحہ ۶۳۵ - ۶۳۴) کا مطلب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمایا ہے:۔”جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو ۴ ۷ اور ۸۶ کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۹۷) پس اگر آپ کی عمر نشسی یا قمری حساب سے اس کے اندراندر ثابت ہو جائے تو یہ الہامات پورے ہو جاتے ہیں۔یعنی اگر آپ کی پیدائش ۱۸۳۶ء و ۱۸۲۲ء کے اندر ثابت ہو جائے۔تو کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔تاریخ پیدائش کا تعین : یقینا ہماری طرف سے جو کچھ اس بارہ میں لکھا گیا ہے۔اس سے ثابت ہو چکا ہے کہ آپ کے الہامات پورے ہو گئے ہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کا تعین ایک بالکل الگ سوال ہے۔اس لئے دیکھنا چاہئے کہ ان الہامی حدود کے اندراندر حضور بحیثیت مجموعی آپ کی تاریخ پیدائش کہاں تک معین کی جاسکتی ہے۔یہ یقینی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی صحیح تاریخ پیدائش معلوم نہ تھی کیونکہ حضہ فرماتے ہیں:۔عمر کا اصل اندازہ تو خدا تعالے کو معلوم ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۹۳) اسی طرح غالباً ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ ہمارے پاس کوئی یاد داشت نہیں کیونکہ اس زمانہ میں بچوں کی عمر کے لکھنے کا کوئی طریق نہ تھا۔ایسی صورت میں اصل تاریخ پیدائش کا فیصلہ دو ہی طرح ہوسکتا ہے۔یا تو کسی کے پاس کوئی ایسی مستند تریل جائے۔جس میں تاریخ پرانے زمانہ کی لکھی ہوئی ہو یا حضرت