سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 689 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 689

سیرت المہدی 689 حصہ سوم متعلق بحث و مباحثہ کیا کرتے۔میں بھی فارسی کی کوئی کتاب سُنانے یا میزان طب پڑھنے کے لئے پانچ بجے شام کے قریب مسجد میں چلا جایا کرتا تھا۔کچھ عرصہ بعد میر ناصر نواب صاحب نے اپنی لڑکی کا نکاح مرزا غلام احمد صاحب سے کر دیا۔مرزا صاحب نے سنت سنگھ جٹ جو بوٹر کلاں کا رہنے والا تھا۔اس کو مسلمان بنا لیا۔پادری کھڑک سنگھ سے بھی ایک دفعہ مباحثہ ہوا۔۶۷۸۔۷۷ء میں سوامی دیانند کا بھی شہرہ ہو چکا تھا۔مرزا صاحب کا ایک تحریری مباحثہ بھی ہوا تھا۔اخبارات میں انادی اور ورنوں کے متعلق بحث ہوتی رہی۔آپ کی عمر اس وقت چھپیں تمہیں سال کے درمیان تھی۔مرزا صاحب پانچ وقت نماز کے عادی تھے۔روزہ رکھنے کے عادی تھے۔اور خوش اخلاق۔متقی اور پرہیز گار تھے۔قانون اور حکمت میں بھی لائق تھے۔اگر چہ وکالت کے امتحان میں فیل ہو گئے تھے۔کچھ مدت اس سے قبل سیالکوٹ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کلرک یا سپرنٹنڈنٹ رہے تھے۔انہی ایام میں ایک گوپی ناتھ مرہٹہ بھاگ کر ریاست جموں میں ایک باغ میں رہائش رکھتا تھا۔اس کے متعلق گورنمنٹ کا حکم تھا۔کہ اگر اسکوتحصیلدار پکڑے تو اس کو اسسٹنٹ کمشنر کا عہدہ دیا جائے گا۔اور اگر ڈپٹی کمشنر پکڑے تو اسے کمشنر بنا دیا جائے گا۔چنانچہ وہ مرہٹہ مرزا صاحب کی ملازمت کے ایام میں ایک ڈپٹی کمشنر کے قابو آیا۔اس کا بیان مرزا صاحب نے قلمبند کیا۔کیونکہ اس مرہٹہ کا مطالبہ تھا کہ میں اپنا بیان ایک خاندانی معزز شریف افسر یا حاکم کو لکھواؤں گا۔اور اس نے خاندانی عزت و نجابت کے لحاظ سے مرزا صاحب کو منتخب کیا۔یہ حالات مرزا صاحب نے خود اپنی زبان سے سُنائے تھے اور یہ بھی سُنایا تھا کہ میں نے وکالت کے امتحان کی تیاری کی تھی اور بائیس امیدوار شاملِ امتحان ہوئے تھے۔نرائن سنگھ امیدوار جو کہ میرا واقف تھا اس نے عین امتحان میں گڑ بڑ کی اور اس کا علم متحن کو ہو گیا۔اور اس نے بائیس کے بائیس امیدوار فیل کر دیے۔کیونکہ اس امر کا شور پڑ گیا تھا۔جب سوامی دیانند سے مباحثہ ہوتا تھا۔تو اسی نرائن سنگھ نے مرزا صاحب کا ایک خط بند لفافہ میں جس میں دو کاغذ لکھے ہوئے تھے محکمہ ڈاک میں بھیج دیئے تھے کہ مرزا صاحب نے جرم کیا ہے۔چنانچہ سپرنٹنڈنٹ صاحب محکمہ ڈاکخانہ جات نے مقدمہ فوجداری مرزا صاحب پر چلا کر ضلع گورداسپور اسٹنٹ صاحب کے پاس بھیج دیا۔مرزا صاحب ملزم ٹھہرائے گئے۔ان دنوں مرزا صاحب کے بڑے بھائی مرزا