سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 688 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 688

سیرت المہدی 688 حصہ سوم زندگی قبل از دعویٰ لینی ہے اور ساتھ ہی میں نے آپ کی عینی شہادت لینی ہے۔ایک محقق کی حیثیت سے مجھے بعد کے واقعات یا شنید سے کوئی تعلق نہیں۔اس پر اس نے کچھ نہیں کہا۔میں حضور کو تمام بیان ارسال کرتا ہوں۔اگر حضور اس کو پڑھ کر پسند کریں تو پھر میری خواہش ہے کہ میں اس کو پہلے یہاں چند اخبار مقامی میں چھپواؤں اور پھر الفضل میں اشاعت ہو۔میرا ارادہ ہے کہ اس کا فوٹو بھی حاصل کروں۔حضور بعد ملاحظہ اس کو میرے پاس واپس ارسال فرماویں۔اگر کسی اور محقق نے جانا ہوں۔تو مجھے مطلع کیا جائے تاکہ میں بھی اس کے ساتھ پھر جاؤں۔میری بیوی بیمار ہے۔اور نیز مقروض ہوں۔حضور دُعافرمائیں۔والسلام خاکسار محمد فضل الہی احمدی ریڈ رسب حج درجہ اول سیالکوٹ ۷ اکتوبر ۱۹۳۵ء۔بیان پنڈت دیوی رام ولد شھر اداس قوم پنڈت سکنہ دو دو چک تحصیل شکر گڑھ ضلع گورداسپور با قرار صالح عمر ۷۰-۷۵سال میں ۲۱ جنوری ۱۸۷۵ء کو نائب مدرس ہو کر قادیان گیا تھا میں وہاں چار سال رہا۔میں مرزا غلام احمد صاحب کے پاس اکثر جایا کرتا تھا اور میزان طب آپ سے پڑھا کرتا تھا۔آپ کے والد مرزا غلام مرتضے صاحب زندہ تھے۔مرزا غلام احمد صاحب ہندو مذہب اور عیسائی مذہب کی کتب اور اخبارات کا مطالعہ کرتے رہتے تھے اور آپ کے ارد گرد کتابوں کا ڈھیر لگا رہتا تھا۔آپ پانچ وقت نماز پڑھنے کے لئے مسجد خاص ( مسجد اقصیٰ مراد ہے خاکسار مؤلف ) میں جایا کرتے تھے۔جب آپ کے والد ماجد فوت ہوئے۔تو اسی مسجد کے صحن میں صندوق میں ڈال کر دفن کئے گئے اور وہ قبر پختہ بنادی گئی۔مرزا سلطان احمد صاحب پسر مرزا غلام احمد صاحب حکمت کی کتابیں اپنے دادا سے پڑھا کرتے تھے اور میں بھی گاہے بگا ہے ان کے پاس جایا کرتا تھا۔کچھ عرصہ کے بعد میر ناصر نواب صاحب جو محکمہ نہر میں ملازم تھے۔ان کا ہیڈ کوارٹر بھی خاص قادیان میں تھا اور وہ وہابی مذہب کے تھے۔مرزا صاحب اہل سنت والجماعت کے تھے۔کبھی کبھی دونوں کو اکٹھے نماز پڑھنے کا موقعہ ملتا۔تو اکثر اپنے اپنے مذہب کے