سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 687 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 687

سیرت المہدی 687 حصہ سوم نے یہ خط اور اسکے ساتھ کا حلفیہ بیان خاکسار کو برائے اندراج سیرۃ المہدی بھجوا دیا تھا۔میاں محمد فضل الہی صاحب کا خط درج ذیل ہے۔اس کے بعد پنڈت دیوی رام صاحب کا حلفیہ بیان درج کیا جائیگا۔بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم بخدمت حضرت امیر المؤمنین حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔میرے آقا کچھ عرصہ ہوا ایک شخص دیوی رام سکنہ دو دو چک تحصیل شکر گڑھ نارووال جاتے ہوئے گاڑی میں ملا اور اس نے ذکر کیا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں کچھ عرصہ دعوی سے قبل رہا ہوں۔اس نے کچھ واقعات زبانی سُنائے تھے۔میں نے اس پر اپنی احمدیت کا ذکر نہ کیا اور کہا کہ میں تم سے پھر ملوں گا۔حسرت تھی کہ قبل از موت اس سے اپنے آقا کے حالات سُن کر تحریر کرلوں مگر بہت عرصہ فرصت نہ ملی۔اس سال میں نے ایک ماہ کی رخصتیں وقف کر دی تھیں۔چونکہ مرکز سے مجھے کوئی اطلاع نہ ملی۔اس لئے میں نے ان رخصتوں میں یہ کام سرانجام دینا تجویز کیا۔میں ۱۵۔ستمبر ۱۹۳۵ء کو بمعہ مولوی محمد منیر احمدی اس کے پاس گیا۔اور بیان لف ہذا اس سے سن کر تحریر کیا۔میں نے اسے اپنا احمدی ہونا نہ بتلایا تھا۔اور نہ اس نے پوچھا تھا یہ آریہ بہت نیک سیرت ہے اور خوب ہوشیار اور حق گو ہے۔میں نے اپنی عقل کے ماتحت اس پر بہت سوالات کئے اور دعویٰ سے قبل کے حالات سنے اور قلمبند کئے۔آخر میں میں نے کہا کہ پنڈت جی میں نے ساڑھے پانچ گھنٹے بیان میں صرف کئے۔اور میں نے بہت کوشش کی ہے کہ آپ مرزا صاحب کا کوئی عیب مجھے بتادیں۔مگر میں حیران ہوں کہ آپ نے میرا مطلب پورا نہ کیا۔میرا اس سے مطلب یہ تھا کہ وہ مجھے مرزا صاحب کے خلاف موجودہ فضاء کے ماتحت مجھے مخالف مان کر کچھ بتائے گا۔اس نے پانچ منٹ سوچ کے بعد پھر کہا کہ میں کیا بتاؤں اگر کوئی عیب ہو تو میں بتاؤں، جھوٹ کس طرح بولوں۔دوران تحریر بیان میں نے انتہائی کوشش کی کہ مخالف حضور کے متعلق کچھ کہے۔مگر قربان جاؤں اس پیارے کی پاکیزگی پر کہ مخالف نے ایک حرف بھی نہ کہا اور میرے زور دینے پر کہا تو صرف اس قدر کہ مرزا صاحب نے بعد ازاں جب مذہبی دنیا میں آئے تو میں نے سُنا ہے کہ دو آدمیوں کو قتل کروا دیا تھا ایک لیکھرام کو وغیرہ۔میں نے کہا۔یہ میرے مطلب سے بعید ہے میں نے صرف آپ کی