سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 683
سیرت المہدی 683 حصہ سوم پڑی تو وہ سب بالکل ہی سجدہ میں جا پڑے۔ہمیں چولہ صاحب کی پہلی تہہ پر صرف چند آیات اور حروف نظر آئے۔وہ لکھ لئے گئے۔پھر مجاور سے کہا گیا۔کہ چولہ صاحب کی دوسری طرف بھی دکھاوے۔اُس نے پس و پیش کیا۔کہ اتنے میں پانچ سات روپے شیخ رحمت اللہ صاحب نے اسی وقت اس کے ہاتھ میں دیدئے۔اس پر اس کی آنکھیں گھل گئیں۔جس پر اس نے چولہ دوسری طرف جو تہ شدہ تھی دکھائی۔پھر اُسے کہا گیا کہ ذرا اس کی تہہ کو کھولو۔اس نے اسے شاید سوء اد بی خیال کیا اور تامل کیا۔اتنے میں شیخ صاحب نے یا کسی اور دوست نے کچھ اور روپے اس کی مٹھی میں رکھدیئے اس پر اس نے طوعاً وکر ہا ایک تہہ کھولدی۔ہمارے دوست کا غذ پنسل لئے چاروں طرف کھڑے تھے۔فوراً جو آیت یا حرف نظر آتے لکھ لیتے یا دوسرے کو لکھا دیتے۔اس کے بعد مزید کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔تو وہ مہنت ہاتھ جوڑنے لگا اور بہت ہی ڈر گیا۔مگر جونہی اس کی مٹھی گرم ہوئی۔تو ساتھ ہی اس کا دل بھی نرم ہو گیا اور اس نے ایک تہ اور کھولدی۔غرضیکہ اسی طرح منت خوشامد ہوتی رہی اور ہر تہہ کھولنے پر روپے بھی برستے رہے اور کئی احباب نے اپنے جوش کی وجہ سے اس نقرہ باری میں کافی حصہ لیا۔تا کہ کسی طرح سارا چولہ نظر آ جائے۔کیونکہ یہ شبہ بھی تھا۔کہ کہیں چولہ صاحب پر قرآن مجید کے علاوہ کوئی اور ہندی یا گورمکھی عبارت بھی ساتھ درج نہ ہو۔آخر جب کئی تہیں کھل چکیں۔تو آخری حملہ اس مہنت پر یوں ہوا کہ ہر طرف سے روپے برسنے شروع ہو گئے اور جب وہ ان کے چننے میں مشغول ہوا۔تو کسی دوست نے پھرتی کے ساتھ جھپٹ کر چولہ صاحب کو خود پکڑ کر سارا کھول کر حاضرین کے سامنے لٹکا دیا۔اور اس طرح اندر اور باہر ہر طرف سے دیکھ کر معلوم ہو گیا۔کہ سوائے قرآن مجید کی آیات کے اور کوئی عبارت چولہ صاحب پر نہیں ہے۔مگر اس حرکت سے وہ بے چارہ سکھ تو بدحواس ہو گیا۔ادھر اس نے روپے چنے تھے کہ کہیں وہ سینکڑوں رومالوں کے ڈھیر میں گم نہ ہو جائیں۔ادھر ا سے مسلمانوں کے ہاتھ سے چولہ صاحب کا اس طرح نکال کر اور کھول کر رکھ دینا ایسا خطر ناک معلوم ہوا کہ اس کے اوسان خطا ہو گئے۔آخر ایک طرف تو وہ زبانی منت خوشامد کرنے لگا اور دوسری طرف جلدی جلدی روپے چنے لگا۔تا کہ پھر چولہ صاحب کو اپنے قبضہ میں کرلے۔مگر اتنے میں ہمارا کام بھی ہو چکا تھا۔اور آیات بھی سب نقل ہو چکی تھیں اور جو