سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 684 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 684

سیرت المہدی 684 حصہ سوم باقی سکھ زائرین تھے وہ سب سجدے میں پڑے تھے۔اس لئے کوئی شور وشر نہ ہوا۔صرف مجاور کی زبان پر واہ گرو اور بس جی بس کے الفاظ بطور پروٹسٹ جاری تھے۔مگر روپے کی بارش سے اس کا دل خوش تھا کہ اتنی رقم یکمشت اسے مل گئی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ چولہ صاحب کے متعلق یہ ایک نہایت اہم تحقیق تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ منکشف ہوئی اور حضرت صاحب نے اپنی ایک تصنیف ست بچن میں اسے مفصل لکھا ہے اور دوسرے دلائل کے ساتھ ملا کر ثابت کیا ہے کہ باوا نا تک صاحب ایک پاکباز مسلمان ولی تھے جو اسلام اور آنحضرت ﷺ کی صداقت کے دل سے قائل تھے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے سکھ بھائیوں کو ہمارے اس عقیدہ سے ناراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس سے ہمارے دلوں میں با واصاحب کی عزت اور بھی زیادہ ہو گئی ہے اور ہم انہیں دلی انشراح کے ساتھ خدا کا ایک عالی مرتبہ ولی سمجھتے ہیں اور ان کی دل و جان سے عزت کرتے ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈیرہ بابا نانک کا سفر ۱۸۹۵ء میں ہوا تھا۔757 بسم الله الرحمن الرحیم - شیخ عبدالحق صاحب ولد شیخ عبداللہ قانونگو ساکن وڈالہ بانگر تحصیل گورداسپور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک ایرانی بزرگ قادیان آئے تھے۔اور کئی ماہ تک قادیان میں رہے۔میں ان کی آمد سے تین چار ماہ بعد پھر قادیان آیا اور ان کو مسجد مبارک میں دیکھا۔غالبا جمعہ کا دن تھا۔بعد نماز جمعہ اس بزرگ نے فارسی زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میری بیعت قبول فرمائی جاوے۔حضور نے فرمایا پھر دیکھا جائیگا۔یا ابھی اور ٹھہر ہیں۔اس پر اس ایرانی بزرگ نے بڑی بلند آواز سے کہنا شروع کیا۔جس کا مفہوم یہ تھا کہ یا تو میری بیعت قبول فرمائیں یا مجھے اپنے دروازہ سے چلے جانے کی اجازت بخشیں۔ان لفظوں کو وہ بار بار دہراتے اور بڑی بلند آواز سے کہتے تھے۔اس وقت مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے کھڑے ہو کر سورہ حجرات کی یہ آیت پڑھی کہ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ (الحجرات : ٣)