سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 682
سیرت المہدی 682 حصہ سوم ہوئے تھے۔اچھے انگریزی خواں تھے مگر افسوس ہے کہ بعد میں ٹھوکر کھا گئے۔گومیں نے سنا ہے کہ ٹھوکر کھانے کے بعد بھی فصیح صاحب نے کبھی عملی مخالفت نہیں کی۔صرف الگ ہو کر خاموش ہو گئے تھے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ فصیح صاحب کا یہ اعتراض کہ مسیح ہو کر چولہ کی تحقیق میں لگے ہوئے ہیں نہایت بودا اور کم فہمی کا اعتراض ہے کیونکہ چولہ کی تحقیق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک نہایت اہم تحقیق ہے جو ایک بڑی قوم کے متعلق نہایت وسیع اثر رکھتی ہے۔مجھے تو اس نظارہ سے ایک خاص سرور حاصل ہوتا ہے۔اور حضرت صاحب کی شان کی رفعت کا پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ہندوؤں اور بدھوں اور عیسائیوں وغیرہ کے بانیوں کو حضرت صاحب نے نیچے رسول ثابت کر کے مسلمانوں کی طرف کھینچ لیا۔اور سکھوں کے بانی کو مسلمان ثابت کر کے راستہ صاف کر دیا۔اس کے بعد باقی ہی کیا رہا۔756 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب ڈیرہ بابا نانک ( تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور ) چولہ دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے۔تو یہ عاجز بھی ہمراہ تھا۔میں اور شاید حافظ حامد علی مرحوم حضرت صاحب کے یکے میں بیٹھے تھے۔اور باقی اصحاب دوسرے بیگوں میں تھے۔ہم علی الصبح قادیان سے روانہ ہوئے اور بٹالہ پہنچتے ہی دوسرے یئے گئے اور سید ھے ڈیرہ نانک روانہ ہو کر دو پہر کے وقت پہنچے۔وہاں ایک بڑ کے درخت کے نیچے آرام کیا۔اور عصر کے بعد حضرت صاحب چولہ دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے۔دس پندرہ آدمی آپ کے ہمراہ تھے۔جن میں شیخ رحمت اللہ صاحب بھی تھے۔جس کمرہ میں چولہ رکھا ہوا تھا۔اس میں بمشکل ہم سب سما سکے۔درمیان میں ایک بڑی ساری گھڑی تھی۔جو قریباً گز بھر اونچی ہوگی۔چولہ صاحب اس کے اندر تھا۔اور اس کے اوپر درجنوں قیمتی کپڑوں کے رومال چڑھے ہوئے تھے۔جو سکھ امراء اور راجوں نے چڑھائے تھے۔زیارت کرانے والا بڑھا مہنت وہاں اس روز موجود نہ تھا۔اس لئے دکھلانے کا کام ایک نوجوان کے سپر د تھا جو اس کا لڑکا یا رشتہ دار تھا۔جب بہت سے رُو مال کھل چکے تو چند سکھ جو اس وقت وہاں موجود تھے وہ تو احترام کے خیال سے سرنگوں ہو گئے۔آخر جب چولہ صاحب پر نظر