سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 678
سیرت المہدی 678 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ اخبار شجھ چشتک اپنی گندہ دہنی میں انتہا کو پہنچ گیا تھا۔اس پر اللہ تعالے کی غیرت جوش میں آئی اور چند دن کے اندر اندر اس کا سارا عملہ طاعون کا شکار ہو گیا۔ان لوگوں کے نام اچھر چند اور سومراج وغیرہ تھے۔752 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر عبد الرحمن صاحب بی۔اے نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۶ ء کے قریب شیخ عبدالرشید صاحب سوداگر چرم بٹالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے باپ نے مجھے عاق کر دیا ہے یا کر دینے والا ہے جس سے میں محروم الارث ہو جاؤنگا۔حضور نے شیخ صاحب موصوف کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا کہ گھبراؤ مت۔مجھے دُعا کے لئے یاد دلاتے رہو۔خدا بہتر سامان کر دے گا۔چنانچہ ہفتہ عشرہ کے بعد بٹالہ سے خبر آئی کہ شیخ صاحب کا باپ مر گیا ہے۔753 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں نظام الدین صاحب ٹیلر ماسٹر جہلمی ثم افریقوی نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری بیعت کا موجب ایک مولوی صاحب ہوئے جو لاہور انجمن اسلامیہ کے سالانہ جلسہ پر پنڈال سے باہر وعظ کر رہے تھے۔وہ قرآن کریم کو ہاتھ میں لیکر حلفیہ طور پر بیان کر رہے تھے کہ مرزا صاحب (نعوذ باللہ ) کوڑھی ہو گئے ہیں۔اس لئے کہ وہ (نعوذ باللہ ) نبیوں کی ہتک کرتے تھے۔جس کو شک ہو قادیان جا کر دیکھ لے۔خدا کی شان ہے کہ یہ سُن کر میرے دل میں قادیان جانے کی تحریک پیدا ہوئی۔جب میں آیا۔تو حضرت صاحب کو بالکل تندرست پایا۔تب میں نے حضور کو سارا قصہ سُنایا۔حضور نے ہنس کر فرمایا۔یہ مولوی ہمارے مقابلہ میں جھوٹ بولنا جائز سمجھتے ہیں۔تب میں نے آپ کی بیعت کر لی کہ میں ان جھوٹوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا۔بیعت کے ایک سال بعد حضور کرم دین کے مقدمہ کے تعلق میں شہر جہلم میں آئے۔برلپ در یا جماعت جہلم نے ایک کوٹھی حضور کی رہائش کے لئے مقرر کر رکھی تھی۔شام کے وقت جب حضور کے سامنے کھانا رکھا گیا۔تو حضور نے فرمایا۔میں گوشت ایک سال سے نہیں کھاتا۔پلاؤ کا ایک تھال بھرا پڑا تھا۔مگر حضور نے خمیری روٹی کے چند لقمے شوربہ میں تھوڑا سا پانی ڈال کر پتلا کر کے کھائے۔مگر پلاؤ کھانے سے انکار کیا۔اس پر ہم لوگوں نے عرض کیا کہ