سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 665
سیرت المہدی 665 قادر ہے وہ بارگہ جو ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے“ حصہ سوم چنانچہ ایسا ہی ہوا۔کہ یہ بنا بنایا کام ٹوٹ گیا اور پھر نہ سنبھلا اور آج تک کوئی شخص یہ بھید نہ پاسکا کہ اس یکرنگ فدائی پر یہ دور کس طرح آیا۔723 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ عبــدالـمـحـی عرب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک نکاح کیا تھا۔مگر بعد رخصتانہ انہیں اپنی بیوی پسند نہ آئی۔جس پر حضور کی خدمت میں عربی میں خط لکھا کہ میری بیوی میں یہ یہ جسمانی نقص ہیں جن کی وجہ سے مجھے اس کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔حضور نے ان کے رقعہ پر ہی یہ مختصر سا فقرہ لکھ کر واپس کر دیا۔كمُ اطْفَ السِّرَاجَ وَافْعَلْ مَاشِتُتَ خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ چراغ بجھا لیا کرو اور پھر جو جی میں آئے کیا کرو۔مطلب یہ تھا کہ جب شادی کر لی ہے تو اب بیوی کے بعض جسمانی نقصوں کی وجہ سے اس سے بے اعتنائی برتنا ٹھیک نہیں۔اگر دیکھنے سے رغبت پیدا نہیں ہوتی۔تو چراغ بجھا دیا کرو۔تاکہ نظر کام کرنے سے رک جائے اور نقص اوجھل رہیں۔اس طرح رغبت ہو جائے گی۔مگر افسوس ہے کہ عرب صاحب اپنے دل پر غالب نہ آسکے اور بالآخر بیوی کو طلاق دیدی۔724 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ آخری ایام میں حکیم محمد حسین صاحب قریشی نے ایک دفعہ حضرت صاحب کی خدمت میں ایک پیٹنٹ مقوی دوا بھیجی کہ حضور بہت محنت کرتے ہیں اسے استعمال فرمائیں۔حضرت صاحب نے ایک دن استعمال کی۔تو اسی دن پیشاب کی تکلیف ہوگئی۔اس کے بعد حضور نے وہ دوا استعمال نہ کی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حکیم صاحب مرحوم لاہور کے رہنے والے تھے۔اور بہت مخلص تھے۔حضرت صاحب اکثر ان کی معرفت لاہور سے سودا منگایا کرتے تھے۔725 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ اگر کبھی کوئی شخص