سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 664
سیرت المہدی 664 حصہ سوم آپ نہایت متقی اور پرہیز گار اور علم دوست انسان تھے۔ان مناشیر میں ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے۔کہ غفران مآب میرزا فیض محمد خانصاحب اور مغفرت نصاب میرزا گل محمد صاحب نے اظہار وفا کیشی کے عرائض بھیج کر اس کے معاوضہ میں جا گیر یا منصب یا خطاب کی استدعا نہیں کی۔کیونکہ ان مناشیر میں شاہانِ دہلی نے نہیں لکھا کہ آپ کے طلب کرنے پر یا آپ کی استدعا پر یہ خطاب یا منصب عطا کیا جاتا ہے۔بلکہ دربار دہلی نے اپنی خوشی اور خورسندی مزاج سے خطاب اور منصب دیئے ہیں۔اور ان عرائض کو ایسے وقت میں نعمت غیر مترقبہ سمجھا ہے۔جس وقت اکثر نمک خوار رؤساء جوانب واطراف میں اطاعت سے سرکو بی کر رہے تھے۔بالآخر بآداب عرض ہے۔کہ اول تو ان سب منا شیر کا فوٹو لے لیا جاوے۔ورنہ فرخ سیر کے منشور کا عکس تو ضرور لے لینا چاہئے۔اس کے ساتھ انگریزی اور اردو ترجمے بھی ہوں۔اگر الفضل میں اس کی کا پیاں چھاپ دی جائیں تو جماعت کے افراد اپنے امام علیہ السلام کے اسلاف کرام کے اعزاز اور مناصب اور علو ہمت پر واقفیت حاصل کر کے ایمان کو تازہ کر لیں۔والسلام خاکسار عبید اللہ بسمل احمدی قادیان ۲۴ جنوری ۱۹۳۵ء 722 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حقہ سے بہت کراہت کرتے تھے۔بلکہ بعض اوقات اس کے متعلق بعض لوگوں پر ناراضگی کا اظہار بھی فرمایا۔مگر سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی جب تشریف لاتے تھے۔تو ان کے لئے کہدیا تھا کہ وہ بے شک حقہ پی لیا کریں۔کیونکہ سیٹھ صاحب معمر آدمی تھے اور پرانی عادت تھی۔یہ ڈر تھا کہ کہیں بیمار نہ ہو جائیں۔نیز سیٹھ صاحب بیمار بھی رہا کرتے تھے۔چنانچہ ان کو ذیا بیطیس بھی تھا اور کا ر بنکل بھی ہوا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراس کے بڑے تاجر تھے اور نہایت مخلص تھے انہوں نے ۱۸۹۳ء کے آخر میں ہندوستان کے مشہور واعظ مولوی حسن علی صاحب مرحوم کے ساتھ حضرت صاحب کی بیعت کی تھی۔مگر افسوس کہ آخری عمر میں ان کی تجارت بہت کمزور ہو گئی تھی۔ایک دفعہ ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا تھا۔کہ