سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 663 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 663

سیرت المہدی پڑھا ہے۔663 حصہ سوم فرخ سیر ہندوستان کے عہد میں جبکہ دارالسلطنت کے نواح واطراف کے رؤساء کی خودسری نے سلطنت کی باگ ڈور کو ڈھیلا کر رکھا تھا۔باوجود یکہ قادیان دہلی سے بعید فاصلہ پر تھا اور آمدورفت کے وسائل بھی کم اور راستہ بھی طویل تھا۔مگر غفران تاب نے سلطنت کی وفاداری کو اپنے خاندان کو آل تمغ سمجھ کرارادتمندانه عرائض سے اپنی نجابت کا ثبوت دیا۔جن کے جواب میں فرخ سیر نے نہایت محبت آمیز الفاظ کے ساتھ اپنا منشور مع خطاب ارسال کیا۔اس منشور اور اس کے بعد کے مناشیر میں بلند حوصلگی اور علو ہمت ثابت کرنے والی یہ بات ہے۔کہ غفران ماب نے تقویٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے دربار دہلی میں جانا پسند نہ کیا۔کیونکہ اس وقت کے دربار کا نقشہ متملق اور چاپلوس اور خوشامدی اراکین سے راجہ اندر کا اکھاڑہ بنا ہوا تھا۔ملا ہی ومناہی اور ارباب نشاط ڈوم ڈھاریوں سے ہر وقت دربار پر رہتا تھا۔غفران ماب نے پنجاب میں رہ کر سلطنت کی وفاداری کا اظہار سرمایہ دیانت سمجھا۔مگر جاہ طلبی کو دُور ہی سے دھکا دیا۔العظمة لله کیا ہی ہمت عالی تھی کہ شریعت غرز اکو مد نظر رکھتے ہوئے دنیاوی اعزاز کی طرف قدم نہ اٹھایا۔ورنہ اس وقت اگر دربار میں پہنچ جاتے تو شاہی عطیات سے مالا مال ہو جاتے اور گرانمایہ جاگیر پاتے۔فرخ سیر کے منشور کے بعد جب نہایت غور سے مغفرت انتساب میرزا گل محمد صاحب طاب اللہ ثراہ کے اسمی جس قدر مناشیر ہیں ان کو پڑھا جاتا ہے۔تو ایک اور ہی کیفیت نظر آتی ہے۔کہ شاہانِ دہلی کے دربار سے بار بار دعوتی مناشیر صادر ہوتے ہیں۔دہلی تو دور سہی وزیر آباد تو دروازے پر ہے۔مگر وہ زہد و ورع کا دلدادہ بادشاہ کو ملنے تک نہیں جاتا۔اس پر وفاداری کا یہ حال ہے۔کہ متواتر عرائض بھیجے جاتے ہیں۔اور بھیجے بھی ایسے شخص کی وساطت سے جو دربار میں بھی نہایت متقی اور پر ہیز گار مانا جا تا تھا۔جس کو خود محمد شاہ بادشاہ جیسا رنگیلا اور شاہ عالم ثانی فضیلت مآب کمالات دستگاه سیادت و نجابت پناہ سید حیات اللہ کہہ کر پکارتے ہیں۔الغرض جہاں میرزا گل محمد صاحب کی کرامات ، زبان زد خلائق ہیں۔یہ بات بھی کم نہیں۔کہ