سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 662 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 662

سیرت المہدی 662 حصہ سوم مغلیہ شاہ عالم ثانی و اکبر شاہ ثانی نام کے بادشاہ رہ گئے تھے۔خطاب دینے والے بادشاہوں کے لحاظ سے غفران تاب کا خطاب ایک ذی شان شہنشاہ کی طرف سے ہے۔علاوہ برائیں عضد الدولہ کا وہ معزز خطاب ہے جو بنو عباس کے خلفاء کی جانب سے ایک ذی شوکت سلطان عضدالدولہ دیلمی کو ملا تھا۔جس کے خاندان کی طرف حدیث کی مشہور کتاب ”دیلمی منسوب ہے۔اس نسبت سے بھی حضرت غفران مآب کا خطاب عضدالدولہ بمقابلہ دیگر رؤساء کے خطابات اعتضادالدولہ واحتشام الدولہ وشجاع الدولہ وآصف الدولہ و سراج الدولہ و وزیر الدولہ سے اشرف واعلیٰ ہے۔جہاں تک خاکسار کی نظر سے بعض بعض امراء ورؤساء پنجاب کے پرانے کاغذات اور سلاطین مغلیہ کے مناشیر گذرے ہیں۔کوئی منشور ایسا نہیں گذرا۔جس میں اس درجہ کا خطاب کسی رئیس خاندان کو منجانب شاہانِ مغلیہ عطا ہوا ہو۔تیسرا لفظ۔امور مذکورہ صدر کے سوا اس منشور میں خصوصیت کے ساتھ ایک حرف صاد کا درج ہے۔جو جلی قلم سے نہایت نظر فریب خوش خط روشن سیاہی کے ساتھ ثبت ہے یہ حرف شہنشاہ محمد فرخ سیر کے خاص قلم کا ہے۔جو ان کی خوشنودی مزاج کی دلیل ہے۔اور منشور کی شان کو دوبالا کر رہا ہے۔کیونکہ شاہانِ مغلیہ جس منشور کو وقیع کرنا چاہتے تھے تو اس پر اپنے دست خاص سے صادر کر دیتے تھے نعمت خاں عالی اپنے وقائع میں اس حرف صاد کی نسبت لکھتا ہے۔سمادشش صاد است از کلک فرنگی ببخن یعنی چھٹا حرف صاد ہے جو بادشاہ اپنے ہاتھ سے مناشیر پر ثبت کرتا ہے۔دوسرامنشورشاہنشاہ ہندوستان محمد شاہ کا ہے جو جلالت تاب میرزا گل محمد صاحب آنَارَ اللَّهُ بُرْهَانَهُ کی طرف ہے۔اس پر ایک مہر کا نقش ہے۔جس کے حروف یہ ہیں۔بالله محمود في كل فعاله محمد غالباً به نقش خاص شاہی ہاتھ کی انگوٹھی کی مُہر کا ہے اور نہایت خوشخط کندہ کیا ہوا ہے۔مگر افسوس ہے کہ پھیکا لگا ہے جس کے حروف ماند پڑ گئے ہیں۔خاکسار نے آئی گلاس منگوا کر نہایت دقت کے بعد