سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 656 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 656

سیرت المہدی 656 ترجمه حصہ سوم بزرگوں و ہمسروں میں برگزیدہ میرزا فیض محمد خاں شاہی دلجوئی یافتہ ہو کر جان لیں کہ اس وقت حضور فیض گنجور عرش آشیانی ظلِ سبحانی آپ کی وفاکیشی اور خیر اندیشی اور جان نثاری سے نہایت خوش ہوئے ہیں۔اس لئے حکم جہاں مطاع عالم مطیع نے صدور کا شرف حاصل کیا ہے کہ اس اخلاص نشان کو ہفت ہزاری امراء کی سلک میں منضبط کر کے اور جگہ دے کر عضد الدولہ کے خطاب سے مفتخر اور ممتاز کیا جاتا ہے۔چاہئے کہ اب لشکر فیروزی اثر میں اپنے آپ کو موجود اور حاضر کریں اور ہمیشہ عرش آشیانی کی درگاہ کے بندوں کی وفاکیشی اور خیر اندیشی میں مصروف اور ساعی رہیں۔۱۹ ماه شوال ۴ جلوس خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرزا فیض محمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دادا کے دادا تھے اور خط کی تاریخ سے پتہ لگتا ہے۔کہ یہ خط ۱۷۱۶ء میں لکھا گیا تھا۔کیونکہ فرخ سیر ۱۷۱۳ء میں تخت پر بیٹھا تھا اور یہ خط سنہ جلوس کے بعد چوتھے سال کا ہے۔(۲) منشور عہد محمد شاہ بادشاہ ہندوستان اخلاص و عقیدت دستگاه میرزا گل محمد مستمال بوده بدانند۔دریں وقت سلالة النجباء فضیلت و کمالات پناه حیات الله مفصل حقیقت شما حالی گردانید باید که در هر باب خاطر جمع نموده در امکنه خودها آباد و مطمئن باشند و اینجانب را متوجه احوال خود انگاشته چگونگی را ارسال دارند بکار هائے خود بکمال خاطر جمعی مشغول و سرگرم باشند و هرگاه احدی از عازمان متوجه آن سر زمین خواهد شد بر مضمون تعلیقچه اطلاع یافته در باره آن اخلاص نشان غور واقعی بعمل خواهد آورد۔تحریر فی التاریخ بیست و چهارم شهر جیب د مجری مہر باشد محمود فر محل فعاله محمد 1141