سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 655 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 655

سیرت المہدی 655 حصہ سوم 721 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ ہمارے خاندان کے متعلق مجھے اخویم مکرم خان بہادر مرز اسلطان احمد صاحب مرحوم کے پاس سے مندرجہ ذیل خطوط اور سندات ملی تھیں۔یہ خطوط شہنشاہان دہلی کی طرف سے ہمارے آباؤ اجداد کے نام ہیں۔اور اصل کا غذات میرے پاس محفوظ ہیں۔ساتھ ساتھ اردو ترجمہ بھی دے دیا گیا ہے اور ان کے نیچے مولوی عبید اللہ صاحب بسمل مرحوم کا ایک عالمانہ نوٹ بھی درج کیا جاتا ہے۔جو مولوی صاحب مرحوم نے ان خطوط کو دیکھ کر لکھا تھا۔مولوی صاحب مرحوم علم تاریخ اور فارسی زبان کے نہایت ماہر اور عالم تھے۔ترجمہ بھی مولوی صاحب موصوف کا کیا ہوا ہے۔(0) منشور محمد فرخ سیر غازی شاہنشا مهند توان بادشاہ غازی باقی میماند زبدة الاماثل والاقران میرزا فیض محمد خان مستمال بوده۔بداند که چون دریں وقت حضور فیض گنجور عرش آشیانی ظل سُبحانی از وفاکیشی و خیر سگالی و جان نثاری شما مسرور ومبتهج شده است - لهذا حکم جهان مطاع عالم مطيع شرف صدور می یا بد که آن اخلاص نشان را در سلک امرائی هفت هزاری منضبط کرده و جا داداه از خطاب عضد الدولة مفتخر و ممتاز فرموده می شود - باید که در موکب فیروزی کوکب خود را موجود و حاضر ساخته مدام بوفا کیشی و خیر سگالی بندگان عرش آشیانی ساعی و مصروف می بوده باشد۔فقط تحرير بتاريخ نوز دهم شهر شوال جلوس مهر مدوّر