سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 654 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 654

سیرت المہدی 654 حصہ سوم اس واقعہ کے گواہ مولوی محبوب عالم صاحب اور میرے بھائی بابومحمد رشید صاحب اسٹیشن ماسٹر اور مستری علم دین صاحب ہیں۔720 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ محمد ابراہیم صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں قادیان میں طاعون پڑی اور مرزا نظام الدین کے خاندان کے بہت سے افراد اس طاعون میں مبتلاء ہو کر فوت ہو گئے۔تو مرزا نظام الدین حضرت خلیفہ اول کے مکان پر آئے اور دروازہ کی چوکھٹ پر سر رکھ کر زار زار رونے لگے۔جب حضرت مولوی صاحب نے ہمدردی کے رنگ میں اس کا سبب دریافت کیا تو مرزا صاحب نے اسی طرح روتے ہوئے کہا۔مولوی صاحب ! کیا ہماری مصیبت کا کوئی علاج نہیں ؟ میں نے تو اب کوئی مخالفت نہیں کی۔مولوی صاحب کچھ وقت خاموش رہے اور پھر فرمایا۔مرزا صاحب میں خدائی تقدیر کو کس طرح بدل سکتا ہوں۔پھر جو افراد بیمار تھے۔ان کے علاج معالجہ کے لئے ہمدردانہ رنگ میں مشورہ دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ مرزا نظام الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچازاد بھائی تھے اور وہ اور ان کے بڑے بھائی مرزا امام دین صاحب ساری عمر حضرت صاحب کے سخت مخالف رہے اور ہر طرح کی ایذا پہنچائی اور سلسلہ حقہ کو مثانے کی ہر رنگ میں کوشش کی۔جس کا ذکر گذشتہ روایتوں میں گذر چکا ہے۔لیکن بالآخر جب مرزا نظام الدین صاحب کے بڑے بھائی مرزا امام دین صاحب فوت ہو گئے اور خدا کے فضل سے جماعت نے بھی اتنی ترقی کر لی تو مرزا نظام الدین صاحب نے محسوس کر لیا کہ اب یہ ہمارے بس کی بات نہیں رہی۔اور بعض دوسرے لحاظ سے بھی مرزا نظام الدین صاحب کمزور ہو گئے تو انہوں نے آخری وقت میں مخالفت کی شدت کو ترک کر دیا تھا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ اس روایت میں جس طاعون کا ذکر ہوا ہے ، وہ ۱۹۱۰ء میں پڑی تھی۔جس میں مرزا نظام الدین صاحب کے بہت سے اقرباء مبتلاء ہوکر فوت ہو گئے تھے۔