سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 60 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 60

سیرت المہدی 60 حصہ اوّل میں غرارے استعمال فرمایا کرتے تھے پھر میں نے کہہ کر وہ ترک کروا دئے۔اس کے بعد آپ معمولی پاجامے استعمال کرنے لگ گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ غرارہ بہت کھلے پائنچے کے پائجامے کو کہتے ہیں۔(پہلے اس کا ہندوستان میں بہت رواج تھا اب بہت کم ہو گیا ہے۔) 83 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود عام طور پر سفید ململ کی پگڑی استعمال فرماتے تھے جو عموما دس گز لمبی ہوتی تھی۔پگڑی کے نیچے کلاہ کی جگہ نرم قسم کی رومی ٹوپی استعمال کرتے تھے۔اور گھر میں بعض اوقات پگڑی اتار کر سر پر صرف ٹوپی ہی رہنے دیتے تھے۔بدن پر گرمیوں میں عموما ململ کا کرتہ استعمال فرماتے تھے۔اس کے اوپر گرم صدری اور گرم کوٹ پہنتے تھے۔پاجامہ بھی آپ کا گرم ہوتا تھا۔نیز آپ عموما جراب بھی پہنے رہتے تھے بلکہ سردیوں میں دو دو جوڑے اوپر تلے پہن لیتے تھے۔پاؤں میں آپ ہمیشہ دیسی جوتا پہنتے تھے۔نیز بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب سے حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے اس وقت سے آپ نے سردی گرمی میں گرم کپڑے کا استعمال شروع فرما دیا تھا۔ان کپڑوں میں آپ کو گرمی بھی لگتی تھی اور بعض اوقات تکلیف بھی ہوتی تھی مگر جب ایک دفعہ شروع کر دیئے تو پھر آخر تک یہی استعمال فرماتے رہے۔اور جب سے شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی ثم لاہوری احمدی ہوئے وہ آپ کے لئے کپڑوں کے جوڑے بنوا کر با قاعدہ لاتے تھے اور حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جیسا کپڑا کوئی لے آئے پہن لیتے تھے۔ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گر گابی لے آیا۔آپ نے پہن لی مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی بعض دفعہ آپ کا اُلٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کیلئے نشان لگا دیئے تھے مگر باوجود اس کے آپ اُلٹا سیدھا پہن لیتے تھے اس لئے آپ نے اسے اتار دیا۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب نے بعض اوقات انگریزی طرز کی قمیص کے کفوں کے متعلق بھی اسی قسم کے ناپسندیدگی کے الفاظ فرمائے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ شیخ صاحب موصوف آپ کے لئے