سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 646 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 646

سیرت المہدی 646 حصہ سوم واقعہ ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء کا ہے۔710 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر عبدالرؤف صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری سفر میں لا ہور جانے لگے تو اس وقت بھائی شیر محمد صاحب کی دکان ( متصل مدرسہ احمدیہ ) کے پاس ایک الہام اپنی موت کے متعلق سُنایا۔جو سا را یاد نہیں۔مفہوم اس کا یہ تھا۔” اَلرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ “ گویا کوچ کا وقت ہے۔مگر میں نے یہ سمجھا۔کہ اس الہام میں حضور کی قرب موت کی طرف تو اشارہ ہے مگر وقت ایسا قریب نہیں اور ابھی کچھ عمر باقی ہے۔اس وقت اور لوگ بھی ہمراہ تھے۔آخر کار حضور لا ہور جا کر بیمار ہو گئے اور دستوں کی بیماری سے آخر مئی ۱۹۰۸ء میں اس دار فانی سے رحلت فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - خاکسار عرض کرتا ہے کہ ماسٹر عبدالرؤف صاحب کو مغالطہ ہوا ہے جو الہام حضرت صاحب کو لاہور جاتے ہوئے ہوا تھا وہ ” مباش ایمن از بازی روزگار۔تھا۔الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ“ کا الهام بعد کا ہے۔جولاہور میں ہوا تھا۔711 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ ایک رنگون کا تاجر ابوسعید عربی حضرت صاحب سے ملنے آیا تھا۔اور ا کثر سوالات کیا کرتا تھا۔اور آنحضرت جوابات دیا کرتے تھے۔وہ کہتا تھا۔کہ میں دہلی دربار کی غرض سے آیا تھا۔مگر اب تو وہاں جانے کو دل نہیں کرتا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ ابوسعید صاحب در اصل عرب نہیں تھے مگر بعض عربی ممالک میں رہ چکنے کی وجہ سے عرب کہلاتے تھے۔712 بسم الله الرحمن الرحیم۔مولوی عبداللہ صاحب مولوی فاضل سابق مدرس ڈیرہ بابا نانک نے مجھ سے بیان کیا۔کہ میں نے مندرجہ ذیل خط شیخ فتح محمد صاحب کے پاس دیکھا ہے۔جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا تھا اور یہ خط خود شیخ فتح محمد صاحب کے نام تھا۔