سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 58 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 58

سیرت المہدی 58 حصہ اوّل محمد اسماعیل صاحب مولوی فاضل نے ذکر کیا کہ میں ایک دفعہ کپورتھلہ گیا تھا تو وہاں دیکھا کہ وہاں کی جماعت نے حضرت مسیح موعود کی یہ عبارت کہ اگر میں سچا ہوں تو مسجد تم کومل جائے گی۔خوبصورت موٹی لکھوا کر اسی مسجد میں نصب کرائی ہوئی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ کپورتھلہ کی جماعت بہت پرانی جماعت ہے اور حضرت مسیح موعود کے دیرینہ مخلصین میں سے ہے۔میں نے سنا ہوا ہے کہ ان کے پاس حضرت مسیح موعود کی ایک تحریر ہے جس میں لکھا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح کپورتھلہ کی جماعت نے دنیا میں میرا ساتھ دیا ہے اسی طرح جنت میں بھی میرے ساتھ ہوگی۔80 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے نے کہ میرا دادا جسے لوگ عام طور پر خلیفہ کہتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سخت مخالف تھا اور آپ کے حق میں بہت بدزبانی کیا کرتا تھا اور والد صاحب کو بہت تنگ کیا کرتا تھا۔والد صاحب نے اس سے تنگ آکر حضرت مسیح موعود کو دعا کے لئے خط لکھا۔حضرت مسیح موعود کا جواب گیا کہ ہم نے دعا کی ہے۔والد صاحب نے یہ خط تمام محلہ والوں کو دکھا دیا اور کہا کہ حضرت صاحب نے دعا کی ہے اب دیکھ لینا خلیفہ گالیاں نہیں دے گا۔دوسرے تیسرے دن جمعہ تھا۔ہمارا دادا حسب دستور غیر احمدیوں کے ساتھ جمعہ پڑھنے گیا مگر وہاں سے واپس آکر غیر معمولی طور پر حضرت مسیح موعود کے متعلق خاموش رہا حالانکہ اس کی عادت تھی کہ جمعہ کی نماز پڑھ کر گھر آنے کے بعد خصوصاً بہت گالیاں دیا کرتا تھا۔لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تم آج مرزا صاحب کے متعلق خاموش کیوں ہو؟ اس نے کہا کسی کے متعلق بدزبانی کرنے سے کیا حاصل ہے اور مولوی نے بھی آج جمعہ میں وعظ کیا ہے کہ کوئی شخص اپنی جگہ کیسا ہی برا ہو ہمیں بد زبانی نہیں کرنی چاہئیے۔لوگوں نے کہا اچھا یہ بات ہے؟ ہمیشہ تو تم گالیاں دیتے تھے اور آج تمہارا یہ خیال ہو گیا ہے! بلکہ اصل میں بات یہ ہے کہ بابو( میرے والد کولوگ با بو کہا کرتے تھے ) کل ہی ایک خط دکھا رہا تھا کہ قادیان سے آیا ہے اور کہتا تھا کہ اب خلیفہ گالی نہیں دے گا۔مولوی رحیم بخش صاحب کہتے تھے کہ اس کے بعد باوجود کئی دفعہ مخالفوں کے بھڑ کانے کے میرے دادا نے کبھی حضرت مسیح موعود کے متعلق بدزبانی نہیں کی اور کبھی میرے والد صاحب کو