سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 57 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 57

سیرت المہدی 57 حصہ اوّل طرف آئے میں نے کہا مولوی صاحب ! جواب لے آئے؟۔78 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جن دنوں میں ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمارتھا ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کو اس کے دیکھنے کے لئے گھر میں بلایا اس وقت آپ صحن میں ایک چارپائی پر تشریف رکھتے تھے اور صحن میں کوئی فرش وغیرہ نہیں تھا۔مولوی صاحب آتے ہی آپ کی چارپائی کے پاس زمین پر بیٹھ گئے۔حضرت صاحب نے فرمایا مولوی صاحب چار پائی پر بیٹھیں۔مولوی صاحب نے عرض کیا حضور میں بیٹھا ہوں اور کچھ اونچے ہو گئے اور ہاتھ چار پائی پر رکھ لیا۔مگر حضرت صاحب نے دوبارہ کہا تو مولوی صاحب اُٹھ کر چار پائی کے ایک کنارہ پر پاکتی کے اوپر بیٹھ گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب میں اطاعت اور ادب کا مادہ کمال درجہ پر تھا۔679 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جماعت احمد یہ کپورتھلہ اور غیر احمدیوں کا وہاں کی مسجد کے متعلق ایک مقدمہ ہو گیا۔جس حج کے پاس یہ مقدمہ گیا وہ خود غیر احمدی تھا اور مخالف تھا۔اس نے اس مقدمہ میں خلاف پہلو اختیار کرنا شروع کیا۔اس حالت میں جماعت کپورتھلہ نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود کو خطوط لکھے اور دعا کے لئے درخواست کی۔حضرت صاحب نے ان کو جواب لکھا کہ اگر میں سچا ہوں تو مسجد تم کومل جائے گی۔مگر ج نے بدستور مخالفانہ روش قائم رکھی۔آخر اس نے احمدیوں کے خلاف فیصلہ لکھا۔جس دن اس نے فیصلہ سنانا تھا اس دن وہ صبح کے وقت کپڑے پہن کر اپنی کوٹھی کے برآمدہ میں نکلا اور اپنے نوکر کو کہا کہ بوٹ پہنائے اور آپ ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔نوکر نے بوٹ پہنا کر فیتہ باندھنا شروع کیا کہ یکلخت اسے کھٹ کی سی آواز آئی اس نے او پر نظر اُٹھائی تو دیکھا کہ اس کا آقا بے سہارا ہو کر کرسی پر اوندھا پڑا تھا۔اس نے ہاتھ لگایا تو معلوم ہوا مرا ہوا ہے گویا یکلخت دل کی حرکت بند ہو کر اس کی جان نکل گئی۔اس کا قائم مقام ایک ہندو مقرر ہوا جس نے اس کے لکھے ہوئے فیصلہ کو کاٹ کر احمدیوں کے حق میں فیصلہ کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے مولوی