سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 625
سیرت المہدی 625 حصہ سوم یکساں نہیں ہوتے۔جیسے مثلاً سیکھواں والے ہیں۔اس طرح حضور نے ہم تینوں بھائیوں کو اس طبقہ سے مستثنے کر دیا۔جو ہماری انتہائی خوشی کا باعث ہوا۔چکی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہی روایت میاں خیر دین صاحب کی زبانی نمبر ۶۳۷ کے ماتحت بھی گذر 675 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ رعلیہ السلام نے ایک دن فرمایا۔کہ جس طرح بلی کو چوہوں کے ساتھ ایک طبعی مناسبت ہے کہ جس وقت دیکھتی ہے حملہ کرتی ہے۔اسی طرح مسیح کو دجال کے ساتھ طبعی نفرت ہے کہ جس وقت دیکھتا ہے حملہ کرتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپ کے دل میں اس زمانہ کی مادیت اور دہریت کے خلاف کس قدر جوش تھا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہاں بلی چوہے کی مثال صرف ایک خاص رنگ کی کیفیت کے اظہار کے لئے بیان کی گئی ہے۔ورنہ اصل امر سے اس مثال کو کوئی تعلق نہیں۔وَقَالَ اللهُ تَعَالَى : - إِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحْيَ اَنْ يَضُرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا (البقرة: ۲۷) 676 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی۔اے جالندھری نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۹۱-۱۸۹۰ء تھا جب میں پہلی مرتبہ قادیان حاضر ہوا۔ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسالہ فتح اسلام کی پہلی کاپی کے پروف دیکھ رہے تھے۔میں ابھی بچہ ہی تھا آپ نے میرے دائیں ہاتھ کی کلائی پکڑ کر میری بیعت قبول فرمائی اور الفاظ بیعت بھی اس وقت بعد کے الفاظ سے مختلف تھے۔جن میں سے ایک فقرہ یاد رہ گیا۔کہ میں منہیات سے بچتا رہوں گا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ماسٹر صاحب موصوف سکھ سے مسلمان ہوئے ہیں۔اور خدا کے فضل سے تبلیغ کے نہایت دلدادہ ہیں۔ابھی گذشتہ ایام میں انہیں اس بات کے لئے جیل خانہ میں جانا پڑا کہ انہوں نے باوا نا تک صاحب کو مسلمان لکھا تھا۔مگر انہوں نے اس تکلیف کو نہایت بشاشت اور خوشی سے برداشت کیا۔