سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 622
سیرت المہدی 622 حصہ سوم کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خاص کمرہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ کمرہ بھی چھوٹا تھا اور ہماری جماعت کے اکثر معزز لوگ حضور سے خاص مشورہ کے لئے آئے ہوئے تھے۔میں بھی ملاقات کی غرض سے گیا۔جگہ کی تنگی کی وجہ سے میں جوتے ایک طرف کر کے جگہ بنانے لگا۔حضور نے مجھے دیکھا اور فرمایا کہ آپ آگے آجائیے ، جگہ میرے پاس موجود ہے۔اگر چہ جگہ بہت تنگ تھی۔مگر حضور کے الفاظ سُن کر لوگ خود پیچھے ہٹنے شروع ہو گئے اور حضور نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھالیا۔669 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ محمدابراہیم صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ جب میری پہلی بیوی فوت ہو گئی۔تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دعا کے لئے عرض کیا۔آپ نے فرمایا۔میں دعا کروں گا۔بعض دوستوں نے کہا۔کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہئے کہ حضور آپ کے لئے رشتہ کا انتظام فرماویں۔میں نے جواب دیا کہ میں نے دعا کے لئے عرض کر دیا ہے۔انشاء اللہ آسمان سے ہی انتظام ہو جائے گا۔ابھی ہیں دن گزرے تھے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے پاس گجرات کے ضلع سے ایک خط آیا۔کہ حافظ صاحب سے دریافت کریں کہ اگر رشتہ کی ضرورت ہو تو ایک رشتہ موجود ہے۔حضرت مولوی صاحب نے بغیر میرے پوچھنے کے اپنی طرف سے خط لکھدیا کہ ہم کو منظور ہے اور مجھے فرمانے لگے کہ آپ کی شادی کا انتظام ہو گیا ہے۔میں نے پوچھا۔حضور کہاں۔فرمایا۔آپ کو اس سے کیا؟ آخر وہ معاملہ جناب الہی نے نہایت خیر وخوبی سے تکمیل کو پہنچایا اور ہمارے لئے نہایب با برکت ثابت ہوا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے جو حافظ صاحب کی اطلاع کے بغیر از خودرشتہ طے کر لیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کو یقین تھا کہ حافظ صاحب کو آپ کا ہر فیصلہ منظور ہوگا۔ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بالغ مرد کی رضامندی کے بغیر بھی رشتہ ہوسکتا ہے۔یہ ایک خاص تعلق کا اظہار تھا۔670 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک مرتبہ نماز استسقاء ہوئی تھی۔یہ نماز اس بڑ کے درخت کے نیچے ہوئی تھی جہاں