سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 620
سیرت المہدی 620 حصہ سوم قادیان آیا اور یہاں وہ حضرت صاحب کو ہر روز مغرب و عشاء کے درمیان <mark>اپنی</mark> تفسیر سُنایا کرتا تھا اور داد چاہتا تھا۔جو جو باتیں اور عقائد اور اعتراض عبد الحکیم خاں نے مرتد ہوتے وقت بیان کئے ہیں وہ سب <mark>آج</mark>کل غیر مبایعین میں موجود ہیں۔دراصل ان لوگوں کو اس نے ہ<mark>لا</mark>ک کیا اور خود اس کو اس کی خواب <mark>بین</mark>ی اور بلھی صفات نے ہ<mark>لا</mark>ک کیا۔چنانچہ ایک دفعہ ان لوگوں نے یہ تجویز پیش کی۔کہ ریویو میں حضرت صاحب کا اور احمدیت کی خصوصیات کا ذکر نہ ہو بلکہ عام اس<mark>لا</mark>می مضامین ہوں تا کہ اشاعت زیادہ ہو۔اخبار وطن میں بھی یہ تحریک چھپی تھی۔جس پر حضرت صاحب نے نہایت ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور فرمایا تھا کہ ہمیں چھوڑ کر کیا آپ مُردہ اس<mark>لا</mark>م کو پیش کریں گے؟ عبدالحکیم خاں نے حضور کو لکھا تھا۔کہ آپ کا وجود خادمِ اس<mark>لا</mark>م ہے نہ کہ عین اس<mark>لا</mark>م۔مگر حضرت صاحب کے اس فقرہ نے اس کی تردید کر دی کہ دراصل آپ کا وجود ہی روح اس<mark>لا</mark>م ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ مسئلہ بہت باریک ہے کہ کسی مذہب میں اس مذہب کے <mark>لا</mark>نے والے کے وجود کو کس حد تک اور کس رنگ میں داخل سمجھا جاسکتا ہے۔مگر بہر حال یہ ایک مسلّم صداقت ہے کہ <mark><mark>نبی</mark></mark> کے وجود سے مذہب کو جد انہیں کیا جاسکتا۔یہ دونوں باہم اس طرح پروئے ہوئے ہوتے ہیں جس طرح ایک کپڑے کا تانا اور بانا ہوتا ہے جن کے علیحدہ کرنے سے کپڑے کی تار پود بکھر جاتی ہے۔بے شک بعض خام طبع موحدین اسے شرک قرار دے سکتے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال خود شرک میں داخل ہے کہ ایک خدائی فعل کے مقابلہ میں اپنے خیال کو مقدم کیا جائے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ خوابوں کا مسئلہ بھی بڑا نازک ہے۔کئی خوا میں انسان کی دماغی بناوٹ کا نتیجہ ہوتی ہیں اور اکثر لوگ ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔666 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں اس عاجز نے نمازوں میں اور خصوصاً سجدوں میں لوگوں کو <mark>آج</mark>کل کی نسبت بہت زیادہ روتے سُنا ہے۔رونے کی <mark><mark>آواز</mark></mark> میں مسجد کے ہر گوشہ سے سُنائی دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے <mark>اپنی</mark> جماعت کے اس رونے کا فخر کے ساتھ ذکر کیا ہے۔جس نماز سے پہلے حضرت صاحب کی کوئی خاص تقریر اور نصیحت ہو جاتی تھی۔اس نماز میں تو مسجد میں گویا ایک گہرام برپا ہو جاتا تھا۔یہاں تک کہ سنگدل سے سنگدل آدمی بھی