سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 617
سیرت المہدی 617 حصہ سوم 659 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی عبد العزیز صاحب او جلوی نے بیان کیا کہ میں ۱۸۹۰ء کے قریب موضع جگت پور کولیاں تحصیل گورداسپور میں پٹواری تھا۔91ء میں کوشش کر کے میں نے اپنی تبدیلی موضع سیکھواں تحصیل گورداسپور میں کروالی۔اس وقت میں احمدی نہیں تھا۔لیکن حضرت صاحب کا ذکر سُنا ہوا تھا۔مخالفت تو نہیں تھی۔لیکن زیادہ تر یہ خیال روک ہوتا تھا کہ علماء سب حضرت صاحب کے مخالف ہیں۔سیکھواں جا کر میری واقفیت میاں جمال الدین و امام الدین و خیر الدین صاحبان سے ہوئی۔انہوں نے مجھے حضرت صاحب کی کتاب ازالہ اوہام پڑھنے کے لئے دی۔میں نے دعا کرنے کے بعد کتاب پڑھنی شروع کی۔اس کے پڑھتے پڑھتے میرے دل میں حضرت صاحب کی صداقت میخ کی طرح گڑ گئی اور سب شکوک رفع ہو گئے۔اس کے چند روز بعد میں میاں خیر الدین کے ساتھ قادیان گیا تو گول کمرے کے قریب پہلی دفعہ حضرت صاحب کی زیارت کی۔حضرت صاحب کو دیکھ کر میں نے میاں خیر دین صاحب کو کہا کہ یہ شکل جھوٹوں والی نہیں ہے۔چنانچہ میں نے بیعت کر لی۔بیعت کرنے کے بعد کثرت سے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔اور شاذ و نادر ہی کبھی کوئی دن گزرتا تھا کہ میں مع میاں جمال الدین وغیرہ قادیان نہ آتا۔ورنہ ہر روز قادیان آنا ہمارا معمول تھا۔اگر کبھی عشاء کے وقت بھی قادیان آنے کا خیال آتا تو اسی وقت ہم چاروں چل پڑتے اور باوجو د سردیوں کے موسم کے نہر میں سے گزر کر قادیان پہنچ جاتے۔اگر ہم میں سے کوئی کسی روز کسی مجبوری کی وجہ سے قادیان نہ پہنچ سکتا۔تو باقی پہنچ جاتے۔اور واپس جا کر غیر حاضر کوسب باتیں سُنا دیتے۔میں حضرت صاحب کے قریب سب سفروں میں حضرت کے ہمراہ رہا ہوں۔مثلاً جہلم۔سیالکوٹ۔لاہور۔گورداسپور۔پٹھانکوٹ وغیرہ ، چنانچہ حضرت خلیفہ مسیح اول میرے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ معلوم نہیں میاں عبد العزیز ملازمت کا کام کس وقت کرتے ہیں۔کیونکہ ہمیشہ قادیان میں ہی نظر آتے ہیں۔660 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی عبد العزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کرم دین کے مقدمہ میں گورداسپور تشریف لائے ہوئے تھے اور احاطہ کچہری میں جامن کے درختوں کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔کہ شیخ علی احمد صاحب وکیل و مولوی محمد حسین صاحب ریڈر اور ایک