سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 618
سیرت المہدی 618 حصہ سوم اور شخص جس کا نام مجھے یاد نہیں۔حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ آپ اس مقدمہ میں راضی نامہ کر لیں۔حضرت صاحب نے فرمایا۔میری طرف سے راضی نامہ کیا معنی رکھتا ہے۔یہ تو کرم دین کا کام ہے جس نے دعوی کیا ہوا ہے۔ان لوگوں کے بار بار کہنے کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا۔کہ میں تو جو کچھ کر رہا ہوں۔خدا کے فرمانے کے مطابق کر رہا ہوں۔اور خدا مجھ سے اسی طرح باتیں کرتا ہے جس طرح کہ اس وقت میں آپ سے باتیں کر رہا ہوں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ انبیاء کا یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ وہ کسی لڑائی کی ابتداء اپنی طرف سے نہیں کرتے۔لیکن جب دوسرے کی طرف سے ابتداء ہوتی ہے تو پھر وہ صلح کے لئے بھی اپنی طرف سے ابتداء نہیں کرتے۔جب تک دوسرا فریق اس کے لئے خود نہ جھکے۔661 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ محمد ابراہیم صاحب محلہ دارالفضل قادیان نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عید کا دن تھا۔آدمیوں کی کثرت تھی۔میں حضرت صاحب سے بہت دُور فاصلہ پر تھا۔حضور لوگوں سے مصافحہ کر رہے تھے۔میں نے بھی چاہا کہ حضور سے مصافحہ کروں مگر آدمیوں کی بھیڑ تھی۔حضور نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔کہ حافظ صاحب! یہیں ٹھہرو میں آتا ہوں۔حضور میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے مصافحہ کیا۔اور اکثر حضور علیہ السّلام، السلام علیکم پہلے کہا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ حافظ صاحب آنکھوں سے نابینا ہیں اور پرانے اور مخلص صحابہ میں سے ہیں۔ایک دفعہ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ حضرت صاحب کو اس مکان کے راستے سے ملنے کے لئے گئے تھے۔جس میں آج کل میں رہتا ہوں۔اس وقت نہ معلوم کس مصلحت سے حضرت صاحب نے حافظ صاحب سے فارسی زبان میں گفتگو فرمائی تھی۔662 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ محمد ابراہیم صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ جب میں پہلی دفعہ ۱۹۰۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملا ہوں تو حضور سیر کو جارہے تھے۔اس