سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 616 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 616

سیرت المہدی 616 حصہ سوم بیگ صاحب بھی اس وقت پاس موجود تھے۔انہوں نے اس شخص سے کہا کہ حضرت مولوی صاحب ( خلیفہ اول) سے اس آیت کا مطلب پوچھ لینا۔اس نے ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کر کے کہا۔کہ میں تو صرف حضرت صاحب کا ہی مرید ہوں اور کسی کا نہیں۔اس پر حضور علیہ السلام نے تبسم فرما کر فرمایا کہ ہر شخص کا مذاق علیحدہ ہوتا ہے۔اور پھر اس آیت شریفہ کے معنے بیان فرمائے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم نے اپنی طرف سے یہ خیال کر کے اس شخص کو روکا ہو گا۔کہ ایسی معمولی بات کے لئے حضرت صاحب کو تکلیف نہیں دینی چاہئے۔مگر حضرت صاحب نے اس کی دلداری کے لئے اس کی طرف توجہ فرمائی۔اور ویسے بھی جبکہ ایک قرآنی آیت کے معنی کا سوال تھا تو آپ نے مناسب خیال فرمایا کہ خود اس کی تشریح فرما دیں۔ویسے عام فقہی مسائل میں حضرت صاحب کا یہی طریق ہوتا تھا کہ جب کوئی شخص کوئی مسئلہ پوچھتا تھا تو آپ فرما دیتے تھے کہ مولوی صاحب سے پوچھ لیں یا مولوی صاحب پاس ہوتے تو خود انہیں فرما دیتے کہ مولوی صاحب یہ مسئلہ کیسے ہے نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ جو لوگ خلافت ثانیہ کے موقعہ پرٹھوکر کھا گئے۔ان میں میرے خیال میں دو شخص ایسے تھے کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ سے بہت محبت تھی اور آپ بھی ان سے محبت فرماتے تھے۔ایک مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم اور دوسرے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم۔مگر افسوس کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر انہیں ٹھوکر لگ گئی۔658 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا ایک دفعہ خاکسار نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی۔کہ عبداللہ چکڑالوی مجھے کہتا تھا۔کہ آیت كُلُّ شَيْ ءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ (القصص: ۸۹) سے ثابت ہے کہ روحیں فنا ہو جاتی ہیں اور کہیں آتی جاتی نہیں۔اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا۔کہ اس کے معنے تو یہ ہیں۔کہ ہر شے معرض ہلاکت اور فنا میں ہے سوائے خدا کی توجہ اور حفاظت کے یعنی كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا بِوَجْهِہ۔پھر فرمایا۔اگر رُوحوں کو بقا ہے تو وہ بھی خدا کی موهبت ہے اور اگر ایک آن کے لئے کسی وقت ان پر فنا آجائے تو بھی کوئی حرج نہیں۔