سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 615
سیرت المہدی 615 حصہ سوم نہیں؟ انہوں نے عرض کیا۔ہاں حضور۔فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی۔آپ پڑھائیے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو، نواقض وضو میں نہیں سمجھا جاتا۔655 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سل دق کے مریض کے لئے ایک گولی بنائی تھی۔اس میں کو نین اور کافور کے علاوہ افیون۔بھنگ اور دھتورہ وغیرہ زہریلی ادویہ بھی داخل کی تھیں اور فرمایا کرتے تھے کہ دوا کے طور پر علاج کے لئے اور جان بچانے کے لئے ممنوع چیز بھی جائز ہو جاتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ شراب کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی فتویٰ تھا۔کہ ڈاکٹر یا طبیب اگر دوائی کے طور پر دے تو جائز ہے۔مگر باوجود اس کے آپ نے اپنے پڑدادا مرزا گل محمد صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں ان کی مرض الموت میں کسی طبیب نے شراب بتائی۔مگر انہوں نے انکار کیا اور حضرت صاحب نے اس موقعہ پر ان کی تعریف کی ہے کہ انہوں نے موت کو شراب پر ترجیح دی۔اس سے معلوم ہوا۔کہ فتویٰ اور ہے اور تقوی اور۔656 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب ایک دفعہ سالانہ جلسہ پر تقریر کر کے جب واپس گھر تشریف لائے۔تو حضرت میاں صاحب سے (خليفة المسيح الثاني ایدہ اللہ تعالیٰ جن کی عمر اس وقت ۱۰-۱۲ سال کی ہوگی۔پوچھا کہ میاں یاد بھی ہے کہ آج میں نے کیا تقریر کی تھی۔میاں صاحب نے اس تقریر کو اپنی سمجھ اور حافظہ کے موافق دہرایا۔تو حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے خوب یا درکھا ہے۔657 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ایام جلسہ میں حضور علیہ السلام سیر کے لئے تشریف لے گئے۔ایک شخص نے آیت شریفہ اَوَمَنُ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ (الانعام: ۱۲۳) الخ کا مطلب حضور علیہ السلام سے دریافت کیا۔مرزا یعقوب