سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 56 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 56

سیرت المہدی 56 حصہ اوّل میرے سامنے مگر ایک فاصلہ پر ایک شیر بیٹھا ہے میں اسے دیکھ کر کانپ گیا لیکن میں نے جی میں ہی اپنے آپ کو ملامت کی کہ یہ میرا وہم ہے۔چنانچہ میں نے پھر مرزا صاحب پر توجہ ڈالنی شروع کی تو میں نے دیکھا کہ پھر وہی شیر میرے سامنے ہے اور میرے قریب آ گیا ہے اس پر پھر میرے بدن پر سخت لرزہ آیا مگر میں پھر سنبھل گیا اور میں نے جی میں اپنے آپ کو بہت ملامت کی کہ یونہی میرے دل میں وہم سے خوف پیدا ہو گیا ہے چنانچہ میں نے اپنا دل مضبوط کر کے اور اپنی طاقت کو جمع کر کے پھر مرزا صاحب پر اپنی توجہ کا اثر ڈالا اور پورا زور لگایا۔اس پر نا گہاں میں نے دیکھا کہ وہی شیر میرے اوپر کود کر حملہ آور ہوا ہے اس وقت میں نے بے خود ہو کر چیخ ماری اور وہاں سے بھاگ اُٹھا۔حضرت خلیفہ ثانی بیان فرماتے تھے کہ وہ شخص پھر حضرت صاحب کا بہت معتقد ہو گیا تھا اور ہمیشہ جب تک زندہ رہا آپ سے خط و کتابت رکھتا تھا۔76 بسم الله الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی محمد اروڑ ا صاحب مرحوم کپور تھلوی حضرت مسیح موعود کے ذکر پر کہا کرتے تھے کہ ہم تو آپ کے منہ کے بھوکے تھے۔بیمار بھی ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ دیکھنے سے اچھے ہو جاتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی صاحب مرحوم پرانے مخلصوں میں سے تھے اور عشاق مسیح موعود میں ان کا نمبر صف اول میں شمار ہونا چاہئیے۔6779 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے۔سٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دی تھی۔آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگے۔یہ دیکھ کر مولوی عبد الکریم صاحب جن کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں آپ حضرت صاحب سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے۔مولوی صاحب فرماتے تھے کہ میں نے کہا میں تو نہیں کہتا آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ناچار مولوی عبد الکریم صاحب خود حضرت صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں بیوی صاحبہ کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔حضرت صاحب نے فرمایا جاؤ جی میں ایسے پردہ کا قائل نہیں ہوں۔مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری