سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 612
سیرت المہدی 612 حصہ سوم مرحوم حضرت صاحب کے لئے بہت کثرت سے ہدیے لاتے تھے۔اور حضرت صاحب ان پر خوش تھے۔649 بسم اللہ الرحمن الرحیم مفتی فضل الرحمن صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ ایک دفعہ دورانِ مقدمہ گورداسپور میں رات کے دو بجے کے قریب میں اپنے کمرہ میں سویا ہوا تھا کہ کسی نے میرا پاؤں دبایا۔میں فوراً جاگ اُٹھا۔اندھیرا تھا۔میں نے پوچھا کون ہے؟ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔میاں فضل الرحمن ! مولوی یار محمد صاحب ابھی قادیان سے آئے ہیں۔وہ بتلاتے ہیں۔کہ والدہ محمود احمد بہت بیمار ہیں۔میں خط لکھتا ہوں۔آپ جلدی گھوڑا تیار کریں اور ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا جواب لائیں۔چنانچہ میں نے اُٹھ کر کپڑے پہنے۔اور گھوڑے کو دانہ دیا۔اور حضور السلام اپنے کمرہ میں خط لکھتے رہے۔جب میں گھوڑا تیار کر چکا۔تو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے صبح کی اذان کہی۔اور میں خط لیکر گھوڑے پر سوار ہو گیا۔اور فوراً قادیان پہنچا۔یہاں اس وقت چھوٹی مسجد میں نماز صبح پڑھی جارہی تھی۔میں نے گھر پر فور دستک دی اور لفافہ ام الـمـؤمـنيــن عليها السلام کے ہاتھ میں دیا اور عرض کیا کہ مولوی یار محمد صاحب نے وہاں جا کر آپ کی علالت کا ذکر کیا تو حضور نے مجھے فوراً روانہ کیا۔انہوں نے کہا کہ الحمد للہ میں تو اچھی بھلی ہوں۔ان کو کوئی غلطی لگی ہوگی۔میں نے عرض کیا کہ لفافہ میں سے خط آپ نکال لیں اور لفافہ پر مجھے اپنے قلم سے خیریت لکھ دیں۔چنانچہ آپ نے خیریت لکھدی۔اور میں لیکر فورا واپس ہوا۔جب میں گورداسپور پہنچا۔تو گھوڑا باندھ کر خط لیکر اندر گیا۔تو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے فرضوں سے سلام پھیرا تھا۔میں نے السلام علیکم کہا۔تو حضور اقدس نے فرمایا۔کہ کیا آپ ابھی یہیں ہیں میں نے عرض کیا۔کہ حضور میں تو جواب بھی لے آیا ہوں۔فرمایا۔یہ کیسے ممکن ہے۔میں نے رسید پیش کی۔تو حضرت اقدس اس امر پر تمام دن ہنستے اور متعجب ہوتے رہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جو واقعات پرانی کتابوں میں جنات کے متعلق پڑھتے تھے۔یہ واقعہ اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے۔کہ صبح کی اذان کے وقت مفتی صاحب گورداسپور سے چلے اور سولہ سترہ میل کے فاصلہ پر قادیان پہنچے اور پھر اس قدر فاصلہ دوبارہ طے کر کے واپس گورداسپور پہنچ گئے اور ہنوز ابھی صبح کی نماز ختم ہی