سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 607
سیرت المہدی 607 حصہ سوم حصہ دوم میں ہمشیرہ مبارکہ بیگم کی پیدائش کے دن میں اختلاف ہے۔یعنی مقدم الذکر روایت میں منگل سے بعد والی رات مذکور ہے اور مؤخر الذکر روایت میں منگل سے پہلی رات بیان کی گئی ہے اس کے متعلق مجھے مولانا محمد اسمعیل صاحب فاضل نے بتایا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ وہ منگل سے پہلی رات تھی۔اور مولوی صاحب کی دلیل یہ ہے کہ حضرت صاحب نے تریاق القلوب میں لکھا ہے کہ مبارکہ بیگم ۲۷ ؍رمضان ۱۳۱۴ھ کو پیدا ہوئی تھیں۔اور تفصیلی طور پر حساب کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال ۲۷ رمضان کو منگل کا دن تھا۔اور چونکہ قمری مہینوں میں رات دن سے پہلے شمار ہوتی ہے۔اس لئے ثابت ہوا۔کہ وہ منگل کے دن سے پہلی رات تھی۔اور شمسی حساب کی رُو سے وہ یکم مارچ اور ۲ / مارچ ۱۸۹۷ء کی درمیانی رات بنتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی بعض تحریرات سے معلوم ہوتا ہے۔کہ لیکھرام کے قتل کی اطلاع قادیان میں اسی دن آئی تھی جس دن مبار کہ بیگم کا عقیقہ تھا اور مندرجہ بالا حساب سے پیدائش کے بعد عقیقہ کا ساتواں دن پیر کا دن بنتا ہے جو ۸ / مارچ کا دن تھا۔لیکن حضرت صاحب کے ایک اشتہار سے پتہ لگتا ہے کہ لیکھرام کے قتل کی اطلاع قادیان میں 19 مارچ کو آئی تھی۔پس یا تو عقیقہ بجائے ساتویں دن کے آٹھویں دن ہوا ہو گا۔اور یا 9 مارچ کی باقاعدہ اخباری اطلاع سے پہلے کوئی زبانی اطلاع ۸/ مارچ کو آ گئی ہوگی۔واللہ اعلم۔642 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ میں قبل از دعوی بھی حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔غالباً انہی ایام کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ مجھے ایک خواب آیا کہ حضرت صاحب ہماری سیکھواں کی مسجد میں تشریف لائے ہیں۔میرے ذہن میں اس وقت یہ آیا کہ حضرت صاحب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان کیا کرتے ہیں کہ آپ بلند قامت تھے مگر حضرت صاحب تو خود بھی بلند قامت ہیں۔اسی وقت میرا ذہن اس بات کی طرف منتقل ہو گیا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خواب بیان کی۔آپ نے فرمایا کہ قسم کھا کر بیان کرو۔چنانچہ میرے ایسا کرنے پر آپ ایک چھوٹی کاپی نکال لائے اور اُس میں یہ خواب اپنے قلم سے درج کی۔اور فرمایا کہ اگر کوئی انسان فنافی الرسول ہو جائے تو