سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 605
سیرت المہدی 605 حصہ سوم ایک دفعہ میں اپنے گاؤں سیکھواں سے قادیان آیا۔حضور علیہ السلام کی عادت تھی کہ گرم موسم میں عمو ماً شام کے وقت مسجد مبارک کے شاہ نشین پر تشریف فرما ہوتے اور حضور کے اصحاب بھی حاضر رہتے۔اس روز عشاء کی نماز کے بعد آپ شاہ نشین پر تشریف فرما ہوئے۔میر ناصر نواب صاحب نے قادیان کے بعض گھمار طبقہ کی بیعت کا ذکر کیا۔اور کہا کہ یہ لوگ حضرت صاحب سے کوئی خاص تعلق پیدا نہیں کرتے مولوی عبدالکریم صاحب نے میر صاحب موصوف کے کلام کے جواب میں کہا۔کہ دیہاتی لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں۔اسی اثنا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توجہ ہوگئی۔تو آپ نے فرمایا۔کہ کیا بات ہے مولوی صاحب نے میر صاحب اور ان کی گفتگو کا تذکرہ کر دیا۔اس پر حضرت صاحب نے مولوی عبدالکریم صاحب کی تائید فرمائی اور فرمایا۔کہ میر صاحب دیہات کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔میں اس وقت مجلس میں اپنی کمزوریوں کو یاد کر کے اور یہ خیال کر کے کہ میں بھی دیہاتی ہوں مغموم ومحزون بیٹھا ہوا تھا۔لیکن اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کہ میاں جمال الدین صاحب و میاں امام الدین ومیاں خیر الدین تو ایسے نہیں ہیں۔جب حضور نے ہم تین بھائیوں کو عام دیہاتیوں سے مستقئنے کر دیا تو میرے تمام ہموم دور ہو گئے۔اور میرا دل خوشی سے بھر گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی اعراب لوگوں کا ایمان اسی طرح کا ہوتا تھا۔مگر ان سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوتے ہیں۔جو نبی کی صحبت سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔اور خدا کے فضل سے ہماری جماعت کے اکثر دیہاتی نہایت مخلص ہیں۔دراصل ایمان کی پختگی کا مدار شہری یا دیہاتی ہونے پر نہیں بلکہ صحبت اور استفاضہ اور پھر علم و عرفان پر ہے۔لیکن چونکہ نبی سے دور رہنے والے دیہاتیوں کو یہ موقعے کم میسر آتے ہیں۔اس لئے وہ عموماً کمزور رہتے ہیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن شریف میں جو اعراب کا لفظ آتا ہے۔اس کے معنے دیہاتی کے نہیں ہیں۔بلکہ اس سے مجلس نبوی سے دور رہنے والے باد پیشین لوگ مراد ہیں۔﴿638 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت