سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 55
سیرت المہدی 55 حصہ اوّل پاس لے گیا ، حضور جب باہر تشریف لائے تو وہ ادب سے کھڑے ہو گئے اور پھر خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹ کر بیٹھ گئے۔اس وقت مجلس میں اور لوگ بھی تھے۔حضور نے بیٹھے بیٹھے تقریر فرمانی شروع کی اور کئی دفعہ کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے پاس آئیں اور ہماری باتیں سنیں اور ہم سے سوال کریں اور ہم ان کے واسطے خرچ کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن اول تو لوگ آتے نہیں اور اگر آتے ہیں تو خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور پھر پیچھے جا کر باتیں کرتے ہیں۔غرض حضور نے کھول کھول کر تقریر کی اور تبلیغ فرمائی اور انہیں بات کرنے پر کئی دفعہ ابھارا۔میرا والد بڑا چرب زبان ہے مگر ان کے منہ پر گو یا مہر لگ گئی اور وہ ایک لفظ بھی نہیں بول سکے۔وہاں سے اٹھ کر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ وہاں بولے کیوں نہیں ؟ انہوں نے کچھ کہ کر ٹال دیا۔میاں فخر الدین صاحب کہتے تھے کہ حضرت صاحب نے اس تقریر میں میرے والد کو مخاطب نہیں کیا تھا بلکہ عام تقریر فرمائی تھی۔75 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا حضرت امیر المومنین خلیفہ ثانی نے کہ ایک دفعہ ایک ہندو جو گجرات کا رہنے والا تھا قادیان کسی بارات کے ساتھ آیا۔یہ شخص علم توجہ کا بڑا ماہر تھا چنانچہ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم لوگ قادیان آئے ہوئے ہیں چلو مرزا صاحب سے ملنے چلیں اور اس کا منشاء یہ تھا کہ لوگوں کے سامنے حضرت صاحب پر اپنی توجہ کا اثر ڈال کر آپ سے بھری مجلس میں کوئی بیہودہ حرکات کرائے۔جب وہ مسجد میں حضور سے ملا تو اس نے اپنے علم سے آپ پر اپنا اثر ڈالنا شروع کیا مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ یکلخت کانپ اُٹھامگر سنبھل کر بیٹھ گیا اور اپنا کام پھر شروع کر دیا اور حضرت صاحب اپنی گفتگو میں لگے رہے مگر پھر اس کے بدن پر ایک سخت لرزہ آیا اور اس کی زبان سے بھی کچھ خوف کی آواز نکلی مگر وہ پھر سنبھل گیا۔مگر تھوڑی دیر کے بعد اس نے ایک چیخ ماری اور بے تحاشا مسجد سے بھاگ نکلا اور بغیر جوتا پہنے نیچے بھاگتا ہوا اتر گیا۔اس کے ساتھی اور دوسرے لوگ اس کے پیچھے بھاگے اور اس کو پکڑ کر سنبھالا۔جب اس کے ہوش ٹھکانے ہوئے تو اس نے بیان کیا کہ میں علم توجہ کا بڑا ماہر ہوں میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ مرزا صاحب پر اپنی توجہ ڈالوں اور مجلس میں ان سے کوئی لغو حرکات کرا دوں لیکن جب میں نے توجہ ڈالی تو میں نے دیکھا کہ