سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 599
سیرت المہدی 599 حصہ سوم 628 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ شکل کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کے دو ٹائپ ہیں۔ایک سلطانی اور دوسرا فضلی۔یعنی ایک وہ جو مرزا سلطان احمد صاحب سے مشابہ ہیں اور دوسرے وہ جو مرزا فضل احمد صاحب سے مشابہت رکھتے ہیں۔سلطانی ٹائپ میں حضرت خلیفة المسیح الثانی ایده الله بنصرہ العزیز۔صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب۔مبارک احمد مرحوم - امة النصير مرحومہ اور امة الحفیظ بیگم شامل ہیں۔اور فضلی جماعت میں عصمت مرحومہ۔شوکت مرحومہ۔صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب ( یعنی خاکسار مؤلف ) اور مبارکہ بیگم شامل ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میر صاحب مکرم کی خود ساختہ اصطلاح کی رُو سے سلطانی ٹائپ سے لمبا کتابی چہرہ مراد ہے۔اور فضلی ٹائپ سے گول چہرہ مراد ہے۔نیز ایک الہام جو خاکسار کی پیدائش کے متعلق حضرت صاحب کو ہوا تھا۔کہ يُدْنى مِنكَ الْفَضلُ ( یعنی فضل تیرے قریب کیا جائے گا ) اس کے ایک معنی حضرت صاحب نے یہ بھی لکھے ہیں۔کہ فضل احمد کی شکل سے مشابہت رکھنے والا بچہ پیدا ہوگا نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مبارک احمد مرحوم کے متعلق مجھے شبہ ہے کہ وہ بقول میر صاحب سلطانی ٹائپ میں شامل نہیں تھا۔بلکہ فضلی ٹائپ میں شامل تھا یا شاید بین بین ہوگا۔واللہ اعلم۔629 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ غلیل سے جو پرندے مارے جاتے ہیں۔ان کی بابت حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔کہ تکبیر پڑھ کر مارلیا کرو اور فرماتے تھے کہ غلیل اور بندوق کا حکم بھی تیر کی طرح ہے۔یعنی اگر جانور ذبح سے پہلے ہی مرجائے تو وہ حلال ہے۔یہ ذکر اس بات پر چلا تھا۔کہ بھائی عبدالرحیم صاحب اکثر پرندے غلیل سے مار کر لایا کرتے تھے۔میں نے عرض کیا کہ کئی پرندے وہیں ذبح سے پہلے مر جاتے ہیں۔تو بھائی جی ان کو حرام سمجھ کر چھوڑ آتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ تکبیر پڑھ کر مارلیا کریں۔پھر اگر ذبح سے پہلے مر بھی جائیں تو جائز ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جاوے یعنی اس کے ذبح کرنے کا موقعہ نہ ملے۔تو تکبیر پڑھنے کی صورت میں وہ جائز ہے یہ مراد نہیں کہ ذبیح کا