سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 597 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 597

سیرت المہدی 597 حصہ سوم منزلہ تھا۔اور موجودہ شکل بعد کی ہے۔چراغ دین صاحب بیان کرتے ہیں۔کہ جب مرزا صاحب یہاں رہا کرتے تھے۔تو اس وقت میری عمر ۱۰۔اسال کی تھی۔اور اس وقت مرزا صاحب کی داڑھی ذرا ذرا سی تھی۔جب آپ کام کاج سے فارغ ہو کر باہر سے آتے تو کسی سے بات نہ کرتے اور اندر ہر وقت لکھنے پڑھنے کا ہی کام کرتے۔اب وہ مکان جس میں مرزا صاحب رہتے تھے۔ماسٹر عبدالعزیز ٹیلر ماسٹر نے جو احمدی ہیں خرید کیا ہوا ہے۔پہلے اس مکان میں صرف ایک ہی دروازہ تھا بعد میں جب تقسیم ہوا تو درمیاں میں دیوار حائل کر کے دو دروازے نکال لئے گئے ہیں۔مرزا صاحب اس کو ٹھڑی میں رہتے تھے جو ان کے مکان کے ساتھ ہے اور اب تک وہ کوٹھڑی اسی حالت میں ہے۔“ محرره سید فیاض حیدر ۱۵ ستمبر ۱۹۳۵ء۔زین العابدین ناظر دعوة و تبلیغ ۱۵ ستمبر ۱۹۳۵ء۔چراغدین بقلم خود۱۵ارستمبر ۱۹۳۵ء۔یہ بیان مندرجہ ذیل اصحاب کی موجودگی میں لیا گیا۔جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں۔( دستخط ) محمد الدین بقلم خود ۱۵ ستمبر ۱۹۳۵ء۔( دستخط ) چودھری محمد شریف مولوی فاضل مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ ۱۵ ستمبر ۱۹۳۵ء۔(دستخط) بقلم خود ظہوراحمد۔احمدی۔۱۵ ستمبر ۱۹۳۵ء۔خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ اس روایت سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت صاحب کی داڑھی کسی قدر دیر کے ساتھ آئی تھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی ملازمت سیالکوٹ کے ایام کے متعلق شمس العلماء مولوی میرحسن صاحب سیالکوٹی کی دو عدد روایتیں ( نمبر ۱۵۰ نمبر ۲۸۰) پہلے حصوں میں گذر چکی ہیں۔626 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱/۸ اکتو بر ۱۹۰۴ء بعد تین بجے شام جبکہ مقدمہ کرم دین کا فیصلہ سنایا جانا تھا اوّل کرم دین کو عدالت میں بلایا گیا اور اس کو پچاس روپیہ جرمانہ ہوا۔اور اس کے بعد ایڈیٹر سراج الاخبار کو بلایا گیا۔اور اُسے چالیس روپیہ جرمانہ ہوا۔اس وقت حضرت اقدس قبل اس کے کہ آپ بُلائے جائیں مجھ سے مخاطب ہو کر فرما رہے تھے۔کہ درمیانی ابتلاء ہیں مگر عدالت عالیہ سے بریت ہے۔اتنے میں حضور کو بلایا