سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 595
سیرت المہدی 595 حصہ سوم قرآن مجید پڑھتے پڑھتے بعض وقت سجدہ میں گر جاتے ہیں اور لمبے لمبے سجدے کرتے ہیں۔اور یہاں تک روتے ہیں کہ زمین تر ہو جاتی ہے۔مائی صاحبہ نے حضرت مسیح موعود کی باتیں بتلاتے ہوئے متعدد دفعہ کہا۔میں قربان جاؤں آپ کے نام پر۔یہ بیان حافظ محمد شفیع صاحب قاری کی موجودگی میں میں نے لیا۔اور حافظ صاحب نے اپنی والدہ صاحبہ کے سامنے بتلایا۔کہ یہی باتیں میں اپنے ماموں اور نانے سے بھی سُنا کرتا تھا۔مائی صاحبہ نے بتلایا کہ پہلے مرزا صاحب اسی محلہ میں ایک چوبارہ میں رہا کرتے تھے۔جو ہمارے موجودہ مکان واقع محلہ جھنڈانوالہ سے ملحق ہے۔جب وہ چوبارہ گر گیا۔تو پھر مرزا صاحب میرے باپ کے مکان واقع محلہ کشمیری میں چلے گئے۔چوبارہ کے گرنے کا واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کے پاس چوبارہ میں خلیل۔منشی فقیر اللہ وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔تو مرزا صاحب نے کہا باہر آ جاؤ۔جب وہ سب باہر دوسرے مکان کی چھت پر آئے۔تو چوبارہ والا چھت بیٹھ گیا۔حافظ محمد شفیع صاحب بیان کرتے ہیں۔کہ خلیل کہتا تھا۔کہ چو بارہ میں کوئی ایسی بات نہ تھی۔کہ جس سے گرنے کا خطرہ ہوتا۔مائی صاحبہ نے بتلایا کہ مرزا صاحب عموماً اپنے اوپر چادر لپیٹے رکھتے تھے اور سر پر بھی چادر اوڑھ لیتے تھے۔اور اتنا ہی منہ کھلا رکھتے جس سے راستہ نظر آئے۔میرے والد بتلاتے تھے کہ مکان کے اندر جا کر چادرا تا ر دیتے تھے حافظ صاحب نے بتلایا کہ ہمارے نانا فضل دین صاحب بتلایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب جب کچہری سے واپس آتے تو چونکہ آپ اہلمد تھے۔مقدمہ والے زمیندار ان کے مکان تک ان کے پیچھے آجاتے۔تو مرزا صاحب فضل دین صاحب کو بلاتے اور کہتے کہ فضل دین میرا پیچھا ان سے چھڑا دو یہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔فضل دین صاحب ان زمینداروں کو سمجھاتے کہ جو تمہارا کام ہے مرزا صاحب کچہری میں ہی کر دیں گے۔گھر میں وہ کسی سے نہیں ملتے۔اور نیز انہوں نے بتلایا۔کہ جو تنخواہ مرزا صاحب لاتے۔محلہ کی بیوگان اور محتاجوں کو تقسیم کر دیتے۔کپڑے بنوا دیتے یا نقد دے دیتے تھے۔اور صرف کھانے کا خرچ رکھ لیتے۔مائی صاحبہ نے بتلایا کہ جب مرزا صاحب دوسری دفعہ بعد از دعوی سیالکوٹ آئے تو حکیم حسام الدین صاحب مرحوم کے مکان پر مجھے بلایا۔اور میرا حال پوچھا۔اور میں نے بیعت بھی کی۔اس وقت مرزا صاحب بمع کنبہ آئے تھے۔