سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 591
سیرت المہدی 591 حصہ سوم سے پچپش لگ گئی ہے۔میاں شریف احمد صاحب کا نکاح بھی حضرت صاحب کے گھر میں ہی ہوا تھا۔مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح مسجد اقصیٰ میں ہوا تھا۔مبارک احمد مرحوم کا نکاح بھی حضرت صاحب نے اپنے سامنے گھر کے اندر کیا تھا۔مگر وہ اسی سال فوت ہو گیا۔امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا نکاح حضور کے وصال کے بعد ہوا۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام روحانی حکیم تھے اور حضرت خلیفہ اول جسمانی حکیم تھے۔ان ہر دو نے اپنے بچوں کی شادیاں چھوٹی عمر میں کر دی تھیں۔میرے خیال میں جو نیا کا آجکل حال ہے اس کے لحاظ سے ابتدائی عمر کی شادی باوجود اپنے بعض نقائص کے تقویٰ اور طہارت کے لحاظ سے بہتر ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مبارک احمد مرحوم کا نکاح اس کی بیماری کے ایام میں ہوا تھا۔مگر وہ بقضائے الہی چند دن بعد فوت ہو گیا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے۔کہ ابتدائی عمر کی شادی واقعی کئی لحاظ سے بہتر ہے۔ایک تو اس ذریعہ سے شروع میں ہی بد خیالات اور بد عادات سے حفاظت ہو جاتی ہے۔دوسرے جو جوڑ میاں بیوی کا چھوٹی عمر میں ملتا ہے وہ عموماً زیادہ گہرا اور مضبوط ہوتا ہے۔تیسرے چھوٹی عمر کی شادی میں یہ فائدہ ہے کہ اولاد کا سلسلہ جلد شروع ہو جاتا ہے۔جس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب والد کے گذرنے کا وقت آتا ہے تو بڑی اولا د چھوٹی اولاد کے سہارے کا باعث بن سکتی ہے۔اسی طرح اور بھی بعض فوائد ہیں۔پس مغربی تقلید میں بہت بڑی عمر میں شادی کرنا کسی طرح پسندیدہ نہیں۔اس طرح عمر کا ایک مفید حصہ ضائع چلا جاتا ہے۔بے شک کم عمری کی شادی میں بعض جہت سے نقصان کا پہلو ہے۔مگر نَفْعُهَا اَكْبَرُ مِنْ إِثْمِهَا کے اصول کے ماتحت فی الجملہ یہی بہتر ہے۔واللہ اعلم۔622 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک مرتبہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے اپنی ایک مجلس میں بیان کیا کہ میں نے ایک رات مٹھائی کھانے میں کثرت کی۔جس سے رات بھر تکلیف رہی اور پیٹ میں بہت ریاح اور قراقر رہا۔اس پر مجھے الہام ہوا۔کہ بطنُ الْأَنْبِيَاءِ صَامِت۔یعنی انبیاء کا پیٹ خاموش ہوتا ہے۔اس عاجز نے یہ بات سُن کر ذہن میں رکھی۔اور اس کے بعد ہمیشہ گھر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اس کا خیال رکھا۔اور بات کو بیچ پایا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ انبیاء کی جسمانی طہارت اور نظافت ایک حد تک اس وجہ سے بھی ہوتی