سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 590
سیرت المہدی 590 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اس سفر کا ذکر معلوم ہوتا ہے جو حضرت صاحب نے ۱۹۰۴ء میں کیا تھا۔620 بسم الله الرحمن الرحیم۔میاں خیر دین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مسماۃ تابی حضرت مسیح موعود کی ایک خادمہ تھی۔اس کی ایک نواسی کا نکاح ایک شخص مسمی فقیر محمد سکنہ قادیان سے تجویز ہوا۔حضرت صاحب نے فقیر محمد کو ایک اشٹام کا کاغذ لانے کی ہدایت فرمائی۔جب وہ کاغذ لے آیا تو حضرت صاحب نے گول کمرہ میں میری موجودگی میں فقیر محمد کی طرف سے تحریر ہونے کے لئے مضمون بنایا۔کہ میں اس عورت سے نکاح کرتا ہوں اور / ۵۰۰ روپیہ مہر ہو گا۔اور اس کے اخراجات کا میں ذمہ دار ہوں گا۔اور اس کی رضا مندی کے بغیر (یا یہ فقرہ تھا۔کہ اس کی حیات تک ) دوسرا نکاح نہ کرونگا۔یہ کاغذ آپ نے مجھے اشٹام پر نقل کرنے کے لئے دیا۔چنانچہ میں نے وہیں نقل کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ نکاح میں زائد شرائط مقرر کرنا جائز ہے۔اور حضرت صاحب نے لکھا ہے (چشمہ معرفت صفحہ ۲۳۷، ۲۳۸) کہ نکاح ثانی کے متعلق عورت کی طرف سے یہ شرط بھی ہو سکتی ہے۔کہ میرا خاوند میرے ہوتے ہوئے نکاح ثانی نہیں کرے گا۔کیونکہ تعدد ازدواج اسلام میں جائز ہے نہ یہ کہ اس کا حکم ہے۔621 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سوائے حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی اور امہ الحفیظ بیگم کی شادی کے باقی اپنے سب بچوں کی مجلس نکاح میں بذات خود شریک تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کا نکاح رڑکی میں ہوا تھا۔جہاں حضرت خلیفہ اول شمع ایک جماعت کے بطور برات بھیجے گئے تھے۔اور وہیں نکاح ہوا تھا۔رخصتانہ بعد میں ہوا جب ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب آگرہ میں تھے۔میاں بشیر احمد صاحب (یعنی خاکسار مؤلف کا نکاح حضرت صاحب کے گھر کے اندر صحن میں ہوا تھا۔جہاں اب حضرت ام المؤمنین رہتی ہیں۔اس موقعہ پر حضرت صاحب نے امرتسر سے اعلیٰ قسم کے چوہارے کافی مقدار میں تقسیم کرنے کے لئے منگوائے تھے۔جو مجلس میں کثرت سے تقسیم کئے گئے۔بلکہ بعض مہمانوں نے تو اس کثرت سے چوہارے کھا لئے کہ دوسرے دن حضرت صاحب کے پاس یہ رپورٹ پہنچی کہ کئی آدمیوں کو اس کثرت کی وجہ