سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 589 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 589

سیرت المہدی 589 حصہ سوم صاحب یا مولوی سید سرور شاہ صاحب ہوتے تھے۔اور دوسرے مسجد اقصیٰ میں جس میں حضرت خلیفہ اول امام ہوتے تھے۔دو جمعوں کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود بوجہ طبیعت کی خرابی کے عموماً مسجد اقصے میں تشریف نہیں لے جاسکتے تھے اور مسجد مبارک چونکہ بہت تنگ تھی اس لئے اس میں سارے نمازی سمانہیں سکتے تھے۔لہذا دو جگہ جمعہ ہوتا تھا۔واقعہ مندرجہ روایت مذکورہ بالا ان دنوں کا ہے۔جبکہ مسجد مبارک میں توسیع کے لئے عمارت لگی ہوئی تھی۔ان ایام میں مسجد مبارک والا جمعہ میرے موجودہ مکان کے جنوبی دالان میں ہوا کرتا تھا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی صاحب نے جو بیان کیا ہے کہ حضرت صاحب مضمون لکھوار ہے تھے اس سے یہ مراد نہیں کہ کسی شخص کو پاس بٹھا کر املا کر وار ہے تھے بلکہ غرض یہ ہے کہ حضور لکھ لکھ کر کا تب کو دے رہے تھے۔علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل تشریح ہے کہ قاضی صاحب نے جو یہ بیان کیا ہے کہ مولوی محمد احسن صاحب نے دانستہ ایسا کیا۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ چونکہ مولوی صاحب کو بات کے لمبا کرنے کی عادت تھی۔اس لئے باوجود حضرت صاحب کے ارشاد کے وہ اس رو سے بچ نہیں سکے۔619 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی عبد العزیز صاحب اوجلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود سیالکوٹ تشریف لے جا رہے تھے۔تو راستہ میں خاکسار کو ملنے کا موقعہ نہ ملا۔کیونکہ خاکسار گورداسپور سے جارہا تھا اور حضور قادیان سے روانہ ہو کر بٹالہ سے گاڑی پر سوار ہوئے تھے۔میں نے لاہور پہنچ کر مولوی محمد علی صاحب سے ذکر کیا کہ مجھے بٹالہ سے لاہور تک حضرت کو بوجہ ہجوم خلقت کے ملنے کا موقعہ نصیب نہیں ہوا لیکن سیالکوٹ سے دوسٹیشن ورے مجھے ہجوم کم نظر آیا۔چنانچہ میں اپنے کمرے سے بھاگتا ہوا حضرت کے کمرہ کے پاس پہنچ گیا۔حضرت مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔میاں عبدالعزیز آپ بھی پہنچ گئے۔سیالکوٹ پہنچ کر حضور نے میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے مکان پر قیام فرمایا۔اور منتظمین کو بلا کر فرمایا کہ منشی اروڑا خانصاحب اور میاں عبدالعزیز کو رہائش کے لئے ایک الگ جگہ دو۔اور ان کا اچھی طرح سے خیال رکھنا کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ادنیٰ سے ادنیٰ خدام کا بھی کتنا خیال رکھتے تھے۔