سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 577
سیرت المہدی 577 حصہ سوم سال ۶ ماہ اور دس دن کی بنتی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اب جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ معتین طور پر معلوم ہوگئی ہے۔ہمارے احباب اپنی تحریر و تقریر میں ہمیشہ اسی تاریخ کو بیان کیا کریں گے۔تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تاریخ پیدائش کے متعلق کوئی ابہام اور اشتباہ کی صورت نہ رہے اور ہم لوگ اس بارہ میں ایک معین بنیاد پر قائم ہو جائیں۔۸۰ اس نوٹ کے ختم کرنے سے قبل یہ ذکر بھی ضروری ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام الہی میں یہ بتایا گیا تھا۔کہ آپ کی عمر اتنی " یا اس سے پانچ چار کم یا پانچ چار زیادہ ہوگی۔(حقيقة الوحی صفحہ (۹۶) اگر اس الہام الہی کے لفظی معنے لئے جائیں۔تو آپ کی عمر پچھتر ، چھہتر۔یا اسی یا چوراسی ، پچاسی سال کی ہونی چاہئے۔بلکہ اگر اس الہام کے معنے کرنے میں زیادہ لفظی پابندی اختیار کی جائے تو آپ کی عمر پورے ساڑھے پچھتر یا اسی " یا ساڑھے چوراسی سال کی ہونی چاہئے۔اور یہ ایک عجیب قدرت نمائی ہے کہ مندرجہ بالا تحقیق کی رو سے آپ کی عمر پورے ساڑھے پچھتر سال کی بنتی ہے۔اسی ضمن میں یہ بات بھی قابل نوٹ ہے۔کہ ایک دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اپنی پیدائش کے متعلق بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت آدم سے لے کر ہزار ششم میں سے ابھی گیارہ سال باقی رہتے تھے کہ میری ولادت ہوئی۔اور اسی جگہ یہ بھی تحریر فرماتے ہیں۔کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ابجد کے حساب کے مطابق سورۃ " و العصر“ کے اعداد سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نکلتا ہے جو شمار کے لحاظ سے ۴۷۳۹ سال بنتا ہے (دیکھو تحفہ گولڑویہ صفحه ۹۳-۹۴-۹۵ حاشیہ) یر زمانہ اصولاً ہجرت تک شمار ہونا چاہئے۔کیونکہ ہجرت سے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔اب اگر یہ حساب نکالا جائے۔تو اس کی رُو سے بھی آپ کی پیدائش کا سال ۱۲۵۰ھ بنتا ہے کیونکہ ۶۰۰۰ میں سے انکالنے سے ۵۹۸۹ رہتے ہیں۔اور ۵۹۸۹ میں سے ۴۷۳۹ منہا کرنے سے پورے ۱۲۵۰ بنتے ہیں۔گویا اس جہت سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق مندرجہ بالا حساب صحیح قرار پاتا ہے۔فالحمد لله علی ذالک۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ مضمون میری طرف سے اخبار الفضل مورخہار اگست ۱۹۳۶ء میں بھی