سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 573 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 573

سیرت المہدی 573 حصہ سوم جب کبھی حضرت صاحب امرتسر یا لاہور سے برف منگواتے۔تو ان کو ضرور بھیجا کرتے تھے اور کبھی مولوی صاحب مرحوم مجھے فرماتے کہ گھر میں برف ہے؟ میں کہتا کہ ہاں ہے۔تو کہا کرتے۔کہ حضرت صاحب سے نہ کہنا کہ عبد الکریم مانگتا ہے مگر کسی طرح سے لے آؤ۔میں آکر حضرت سے کہتا کہ مولوی عبدالکریم صاحب کے لئے کچھ برف چاہئے۔یہ نہ کہتا کہ وہ مانگ رہے ہیں۔آپ فرماتے کہ ہاں ضرور لے جاؤ۔بلکہ خود نکال کر دیدیتے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مسجد اقطے کے کنوئیں کا پانی خنکی کے لئے بہت مشہور تھا اور سارے قادیان میں اول نمبر پر سمجھا جاتا تھا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بہت ادبی مذاق رکھتے تھے۔اور انہیں اس بات کی طرف بہت توجہ تھی کہ اپنے کلام میں فصاحت پیدا کریں۔اس روایت میں بھی ”پانی کی آب“ کا محاورہ ان کی ادبی ندرت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔611 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام تمام گذشته مشهور بزرگان اسلام کا نام ادب سے لیتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔اگر کوئی شخص کسی پر اعتراض کرتا۔کہ فلاں شخص کی بابت لکھا ہے کہ انہوں نے یہ بات کہی ہے یا ایسا فعل کیا ہے۔تو فرمایا کرتے كه "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ہمیں کیا معلوم کہ اصلیت کیا ہے اور اس میں کیا سر تھا۔یہ لوگ اپنے زمانے کے بڑے بزرگ ہوئے ہیں۔ان کے حق میں اعتراض یا سوء اد بی نہیں کرنی چاہئے۔حضرت جنید۔حضرت شبلی۔حضرت بایزید بسطامی۔حضرت ابراہیم ادھم۔حضرت ذوالنون مصری۔چاروں ائمہ فقہ۔حضرت منصور - حضرت ابوالحسن خرقانی و غیر هم صوفیاء کے نام بڑی عزت سے لیتے تھے اور بعض دفعہ ان کے اقوال یا حال بھی بیان فرمایا کرتے تھے۔حال کے زمانہ کے لوگوں میں آپ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کو بزرگ سمجھتے تھے۔اسی طرح آپ شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی۔حضرت مجد دسر ہندی۔سید احمد صاحب بریلوی اور مولوی اسمعیل صاحب شہید کو اہل اللہ اور بزرگ سمجھتے تھے۔مگر سب سے زیادہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی کا ذکر فرماتے تھے۔اور ان کے مقالات بیان کیا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طریق تھا کہ اگر کسی گذشتہ بزرگ کا کوئی قول یا فعل