سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 574
سیرت المہدی 574 حصہ سوم آپ کی رائے اور تحقیق کے خلاف بھی ہو تو پھر بھی اس وجہ سے کسی بزرگ پر اعتراض نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر انہوں نے اپنے زمانہ کے لحاظ سے کوئی بات کہی ہے یا کسی معاملہ میں انہیں غلطی لگی ہے تو اس کی وجہ سے ان کی بزرگی میں فرق نہیں آتا اور بہر حال ان کا ادب ملحوظ رکھنا چاہئے۔612 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک مرتبہ میں قادیان گیا۔حضور علیہ السلام نے فرمایا۔میاں نور محمد ! تم قادیان میں رہا کرو۔اور قرآن شریف پڑھا کرو۔تمہارے کام کے لئے ہم ایک آدمی نوکر رکھ دیتے ہیں۔کیونکہ اس زمانہ میں ایک روپیہ ماہوار پر زمیندارہ کے لئے آدمی مل سکتا تھا۔میں نے جوا با عرض کیا کہ حضور میں اپنے والد صاحب سے پوچھ کر عرض کروں گا۔بعد ازاں میں نے والد صاحب سے اس امر کا تذکرہ کیا۔انہوں نے کہا۔کہ میں خود حضرت صاحب سے اس بارہ میں بات کروں گا۔چنانچہ والد صاحب حضرت صاحب سے ملے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا۔کہ شیخ صاحب ہم نے آپ کے بیٹے کو یہاں رہنے کے لئے کہا ہے۔کیونکہ میاں حامد علی کے والد نے بھی ان کو یہاں ہی چھوڑ دیا ہے۔والد صاحب نے عرض کیا۔کہ جناب جس مکان میں چھ سات چراغ جل رہے ہوں اگر وہاں سے ایک اٹھا لیا جائے تو روشنی میں کوئی خاص کمی واقع نہ ہوگی اور جس گھر میں فقط ایک چراغ ہو اور اس کو اٹھا دیا جائے تو بالکل اندھیرا ہو جائے گا۔اس طرح میرے والد صاحب نے ہنس کر بات ٹال دی۔کیونکہ میاں حامد علی کے پانچ چھ بھائی تھے اور میں گھر میں والد کا ایک ہی بیٹا تھا۔لیکن مجھ کو اس بات پر سخت افسوس ہوا اور اب تک ہے۔کہ والد صاحب نے حضرت کی بات کو قبول کیوں نہ کر لیا۔اور مجھے اس موقعہ سے مستفید کیوں نہ ہونے دیا۔613 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تاریخ پیدائش اور عمر بوقت وفات کا سوال ایک عرصہ سے زیر غور چلا آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تصریح فرمائی ہے۔کہ حضور کی تاریخ پیدائش معین صورت میں محفوظ نہیں ہے اور آپ کی عمر کا صحیح اندازہ معلوم نہیں ( دیکھو ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۹۳) کیونکہ آپ کی پیدائش سکھوں کی حکومت کے زمانہ میں