سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 572 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 572

سیرت المہدی 572 حصہ سوم ہے کہ اسلام کی ہر تعلیم رحمت ہے تو وہ جب دیکھے گا کہ آنحضرت ﷺے داڑھی رکھتے تھے اور ہم بھی داڑھی رکھتے ہیں تو اس کا ایمان اس سے خود داڑھی رکھوالے گا لیکن ایمان ہی خام ہو تو خالی داڑھی کیا فائدہ پہنچاسکتی ہے۔پس با وجود داڑھی منڈوانے کو بُرا سمجھنے کے آپ اپنی تقریر و تحریر میں اس کا زیادہ ذکر نہیں فرماتے تھے۔بلکہ اصل توجہ ایمان کی درستی اور اہم اعمال صالحہ کی طرف دیتے تھے اور اگر کوئی داڑھی منڈوانے والا شخص آپ کی مجلس میں آتا تھا تو آپ اُسے ٹوکتے نہیں تھے۔609 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت صاحب جب مسجد میں بیٹھ کر گفتگو فرماتے تو بعض لوگ درمیان میں دخل در معقولات کر بیٹھتے اور بات کاٹ کر اپنے قصے شروع کر دیتے مگر حضرت اقدس اس سے کبھی رنجیدہ خاطر نہ ہوتے۔اگر چہ دوسرے احباب اس امر کو بہت محسوس کرتے کہ ہم دُور دُور سے حضرت کی باتیں سننے آتے ہیں مگر یہ لوگ اپنی ان باتوں سے ہمیں حضور کے کلام سے محروم کر دیتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ درست ہے کہ حضرت صاحب ہر شخص کی بات کو خواہ وہ لاتعلق اور لایعنی ہی ہو۔اور خواہ کتنی لمبی ہو تو جہ سے سنتے تھے۔مگر حضور کی بات کاٹنے کے متعلق جو بات محقق صاحب نے کہی ہے اس کے متعلق یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اکثر ایسا ہوتا تھا۔بلکہ صرف بعض نا سمجھ لوگ کبھی کبھی ایسا کر بیٹھتے تھے۔ورنہ سمجھدار لوگ آپ کی بات کاٹنے کو بے ادبی خیال کرتے تھے۔610 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اس عاجز کے استاد تھے۔میں نے عربی۔انگریزی۔فارسی اور قرآن مجید کا کچھ حصہ ان سے پڑھا ہے۔وہ ٹھنڈے پانی کے بہت عاشق تھے۔بیت الفکر کے اوپر جو کمرہ مسجد مبارک کے بالا ئی صحن میں کھلتا ہے اس میں رہا کرتے تھے۔پیاس لگتی تو کسی دوست یا شاگرد کو مسجد اقصی میں تازہ پانی لانے کے لئے بھیجتے اور جب وہ شخص واپسی پر گلی میں نظر آتا۔تو اوپر سے ہی کھڑکی کے اندر سے آواز دیتے کہ جلدی لاؤ ورنہ پانی کی آب ماری جائے گی۔غرض ان کو ٹھنڈے پانی اور برف سے بے حد رغبت تھی۔