سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 569
سیرت المہدی 569 حصہ سوم ایک شیعہ جب مرنے لگا۔تو اس نے اپنی اولا د کو جمع کیا اور کہا کہ میں تم کواب مرتے وقت ایک وصیت کرتا ہوں۔جس کو اگر یا درکھو گے تو تمہارا ایمان قائم رہے گا اور یہ نصیحت میری تمام عمر کا اندوختہ ہے۔وہ نصیحت یہ ہے کہ آدمی اس وقت تک سچا شیعہ نہیں ہو سکتا جب تک اُسے تھوڑی سی عداوت حضرت امام حسنؓ سے بھی نہ ہو۔اس پر اس کے عزیز ذرا چونکے تو وہ کہنے لگا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ اپنی خلافت بنوامیہ کے سپرد نہ کر دیتے اور ان سے صلح نہ کر لیتے تو شیعوں پر یہ مصیبت نہ آتی۔اصل میں ان کا قصور تھا۔سو دل میں ان سے کچھ عداوت ضرور رکھنی چاہئے۔پھر چپ ہو گیا۔تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا کہ اب اس سے بڑھ کر نکتہ بتا تا ہوں۔میرے مرنے کا وقت قریب آگیا ہے مگر یہ سُن رکھو کہ شیعہ سچا وہی ہے جو تھوڑی سے عداوت حضرت علیؓ کے ساتھ بھی رکھے۔کیونکہ حضرت علی شیر خدا اور رسول خدا کے وصی تھے۔مگر ان کی آنکھوں کے سامنے ابو بکر اور عمر نے خلافت غصب کر لی۔مگر وہ بولے تک نہیں۔اگر اس وقت وہ ہمت دکھاتے تو منافقوں کا غلبہ اس طرح نہ ہو جاتا۔اس کے بعد وہ پھر خاموش ہو گیا۔تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا۔لواب اس سے بھی ضروری بات بیان کرتا ہوں۔بچے شیعہ کو ضرور تھوڑی سے عداوت آنحضرت سے بھی رکھنی چاہئے کہ اگر وہ ابو بکر اور عمر کا فیصلہ اپنے سامنے کر جاتے اور علی کی خلافت سب کے سامنے کھول کر بیان کر دیتے اور اپنا جانشین انہیں بنا جاتے تو پھر یہ فساد اور مصیبتیں کیوں آتیں۔ان کا بھی اس میں قصور ہے کہ بات کو کھولا نہیں۔پھر ذرا اُٹھ کر کہنے لگا کہ اب تو میرے آخری سانس ہیں۔ذرا آگے آجاؤ۔دیکھوا گر تم دل سے شیعہ ہو۔تو جبرائیل سے بھی ضرور تھوڑی سے عداوت رکھنا۔جب خدا نے وحی حضرت علی کی طرف بھیجی تو وہ حضرت علی کی بجائے آنحضرت کی طرف لے آیا اور اس طرح ہمارا تمام کام بگاڑ دیا۔خواہ بھول گیا یا جان بوجھ کر ایسا کیا مگر اس کا قصور ضرور ہے۔اس کے بعد ذرا چپ رہا۔جب بالکل آخری وقت آگیا۔تو کہنے لگا ذرا اور نزدیک ہو جاؤ۔یہ آخری بات ہے اور بس۔جب وہ لوگ آگے ہوئے تو کہنے لگا۔آدمی اس وقت تک کامل شیعہ نہیں ہو سکتا۔جب تک کچھ تھوڑی سی عداوت خدا سے بھی نہ رکھے۔کیونکہ سارا فساداسی سے نکلا ہے۔اگر وہ ان تمام معاملات کو پہلے ہی صفائی سے طے کر دیتا اور جھگڑوں میں نہ الجھا تا تو نہ حضرت علی محروم ہوتے نہ امام حسین شہید ہوتے اور نہ غاصب کامیاب ہوتے۔یہ کہہ کر بیچارے کا دم