سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 566 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 566

سیرت المہدی 566 حصہ سوم 596 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ جیسے زکوۃ یا صدقہ سادات کے لئے منع ہے ویسا ہی صاحب توفیق کے لئے بھی اس کا لینا جائز نہیں ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے یہ سُنا ہوا ہے کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ آج کل سخت اضطرار کی حالت میں جبکہ کوئی اور صورت نہ ہو۔ایک سید بھی زکوۃ لے سکتا ہے۔597 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ حضرت صاحب معتدل موسم میں بھی کئی مرتبہ چھلی رات کو اُٹھ کر اندر کمرہ میں جا کر سو جایا کرتے تھے اور کبھی کبھی فرماتے تھے کہ ہمیں سردی سے متلی ہونے لگتی ہے۔بعض دفعہ تو اُٹھ کر پہلے کوئی دوا مثلاً مشک وغیرہ کھا لیتے تھے اور پھر لحاف یا رضائی اوڑھ کر اندر جائیٹتے تھے۔غرض یہ کہ سردی سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی اور اس کے اثر سے خاص طور پر اپنی حفاظت کرتے تھے۔چنانچہ پچھلی عمر میں بارہ مہینے گرم کپڑے پہنا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب بالعموم گرمی میں بھی جراب پہنے رکھتے تھے اور سردیوں میں تو دو دو جوڑے اوپر تلے پہن لیتے تھے مگر گرمیوں میں کر تہ عموماً ململ کا پہنتے تھے۔598 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نبی بخش صاحب ساکن فیض اللہ چک حال محلہ دار الفضل قادیان نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت صاحب ہر موسم کا پھل مثلاً خربوزہ اور آم کافی مقدار میں باہر سے منگواتے تھے۔خربوزہ علاقہ بیٹ سے اور آم دریا کے پار سے منگاتے تھے۔بعض اوقات جب میں بھی خدمت میں حاضر ہوتا تو حضور اپنے دست مبارک سے خربوزہ کاٹ کر مجھے دیتے اور فرماتے۔میاں نبی بخش یہ خربوزہ میٹھا ہوگا اسکو کھاؤ اور آپ بھی کھاتے۔اسی طرح آموں کے موسم میں حضرت صاحب نہایت محبت و شفقت سے مجھے آم بھی عنایت فرماتے اور بار بار فرماتے۔یہ آم تو ضرور میٹھا ہوگا۔اس کو ضرور کھاؤ۔خاکسار عرض کرتا ہے۔بیٹ سے دریائے بیاس کے قریب کا نشیبی علاقہ مراد ہے اور پار سے ضلع ہوشیار پور کا علاقہ مراد ہے جس میں آم زیادہ ہوتا ہے۔