سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 557 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 557

سیرت المہدی 557 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی قمر الدین صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ جب میں دھرم کوٹ بگہ سے اس روایت کو لے کر واپس قادیان آیا۔تو ایک دن میں نے اس واقعہ کا ذکر چوہدری مظفر الدین صاحب بنگالی ، بی۔اے سے کیا تو وہ بہت محظوظ ہوئے اور کہا کہ یہ بہت عجیب واقعہ ہے۔کسی دن دھرم کوٹ چلیں اور سائیں ابراہیم صاحب کی زبانی سنیں۔میں نے کہا بہت اچھا۔کسی دن چلیں گے۔چنانچہ ہم نے جانے کے لئے ایک دن مقرر کیا۔بٹالہ تک گاڑی میں جانا تھا۔رات کو بارش ہو گئی۔صبح سویرے گاڑی پر پہنچنا تھا۔باقی سب دوست تو پہنچ گئے مگر چوہدری صاحب نہ پہنچ سکے۔ہم گاڑی پر چلے گئے۔بعض دوست چوہدری صاحب کے نہ پہنچ سکنے پر افسوس کرنے لگے۔مگر میں نے کہا۔چوہدری صاحب ضرور پہنچ جائیں گے۔ہم بذریعہ گاڑی بٹالہ پہنچے اور وہاں سے دھرم کوٹ چلے گئے۔ابھی تھوڑا ہی وقت گذرا تھا کہ چوہدری صاحب سائیکل پر پہنچ گئے۔دھرم کوٹ ہم نے پہلے سے اطلاع کی ہوئی تھی کہ ہم لوگ فلاں غرض کے لئے آرہے ہیں۔چوہدری صاحب کے پہنچنے پر ہم سب خوش ہوئے کیونکہ در حقیقت یہ سفر انہی کی تحریک پر کیا گیا تھا۔ایک مجلس منعقد کی گئی اور سائیں ابراہیم کی خدمت میں درخواست کی گئی کہ وہ سارا واقعہ مباہلہ سُنائیں۔سائیں صاحب موصوف نے سارا واقعہ سُنایا۔واقعہ سُن کر ایمان تازہ ہوتا تھا۔ہمارے علاوہ اس مجلس میں مقامی جماعت کے لوگ بھی کافی تعداد میں شامل تھے۔جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی بھی تھے۔سب نے سائیں صاحب کے واقعہ مذکورہ سُنانے پر تائید کی اور کئی احباب نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد دھرم کوٹ بگہ کے بہت سے احباب سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شامل ہو گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مسنون طریق مباہلہ یہ ہے۔کہ مباہلہ کے لئے ایک سال کی میعاد مقرر کی جائے اور اسی واسطے حضرت صاحب چالیس روز میعاد کے مقرر ہونے پر ناراض ہوئے ہونگے۔مگر خدا نے حضرت کی خاص دعا کی وجہ سے چالیس روز میں ہی مباہلہ کا اثر دکھا دیا۔اور احمدیوں کو نمایاں فتح دے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو ثابت کر دیا مگر یہ ایک استثنائی صورت ہے۔جو حضرت صاحب کی خاص توجہ سے خدا نے خاص حالات میں پیدا کر دی۔ورنہ عام حالات میں ایک سال سے کم میعاد نہیں ہونی