سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 556
سیرت المہدی 556 حصہ سوم خدمت میں جانے کے لئے تیاری ہوئی۔ہم پانچوں قادیان پہنچے۔نماز عشاء کے بعد مولوی فتح دین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو واقعہ مباہلہ سُنایا اور کہا کہ ایسا ہو چکا ہے اور چالیس دن میعاد مقرر کی گئی ہے۔حضور دعا فرمائیں۔حضور نے معاً فرمایا : کیا تم خدا کے ٹھیکیدار تھے؟ تم نے چالیس دن میعاد کیوں مقرر کی؟ یہ غلط طریق اختیار کیا گیا ہے۔یہ بھی دریافت فرمایا کہ مباہلہ میں اپنے وجود کو پیش کیا گیا ہے یا کہ ہمارے وجود کو؟ مولوی صاحب نے کہا۔حضور اپنا وجود ہی پیش کیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ آئندہ یا د رکھو کہ مباہلہ میں میرا وجود پیش کرنا چاہئے نہ کہ اپنا۔اس کے بعد حضور کچھ دیر گفتگو فرما کر تھوڑی دیر کے لئے خاموش رہے۔پھر فرمایا۔میں دُعا کرتا ہوں آپ بھی شامل ہو جائیں۔دعا نہایت رفت بھرے الفاظ سے شروع ہوئی۔عشاء کے بعد سے لے کر تہجد کے وقت تک دُعا ہوتی رہی۔آخر دُعا ختم ہوئی اور حضور نے فرمایا۔جاؤ دُعا قبول ہوگئی ہے اور خدا کے فضل سے تمہاری فتح ہے۔ہم لوگ اسی وقت واپس آگئے۔نماز فجر راستہ میں پڑھی۔واپس آکر ہم لوگ مباہلہ کے انجام کے منتظر رہے اور دعا کرتے رہے۔حضرت اقدس نے بھی دعا جاری رکھنے کی نصیحت فرمائی تھی۔میعاد میں دس دن باقی رہ گئے تو رادھے خان نے آ کر پھر سخت کلامی کی۔اور اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر باہر جنگل میں دُعا کرنے کے لئے چلا گیا۔مجھے یہ بھی یاد ہے۔کہ اس نے لوگوں کو کہا تھا کہ میری دعا قبول ہوگئی ہے۔اس دعا کے بعد وہ اپنے گاؤں کو واپس جا رہا تھا۔کہ راستہ میں اس کی پنڈلی کی ہڈی پر چوٹ لگی۔اس سے اس کے سارے جسم میں زہر پھیل گیا۔رادھے خان جسم کا پتلا دبلا تھا۔مگر اس چوٹ کی وجہ سے اس کا جسم پھولتا گیا۔حتی کہ چار پائی سے بالشت بھر باہر اس کا جسم نکلا ہوا نظر آتا تھا۔اس بیماری میں مولوی فتح الدین صاحب اس کے پاس گئے۔اور تو بہ واستغفار کی تلقین کی مگر وہ اس طرف متوجہ نہ ہوا۔پھر جب چالیس دن میں ایک دن باقی تھا۔تو وہ واصل جہنم ہوا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذالک۔العبد ( دستخط ) ابراہیم بقلم خود ساکن دھرم کوٹ بگه تحصیل بٹالہ العبد : ( دستخط) محمد جان بقلم خود ضلع گورداسپور میں اس واقعہ کی تصدیق کرتا ہوں۔کتبہ: قمر الدین مولوی فاضل -۱۵/۷/۳۲ العبد :۔نشان انگوٹھا روڑا احمدی ساکن دھرم کوٹ بگہ۔